ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 363 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 363

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۳ جلد سوم آئے ہیں کہ محمد حسین کے رسالوں میں کوئی مضمون دیکھتے تھے ان سے معلوم ہوا کہ آپ حق پر ہیں اور بعض ایسے خطوط بھی آئے ہیں کہ کوئی فقیر ایک کتاب لایا تھا وہ کتار کتاب لایا تھا وہ کتاب چھوڑ گیا اور اس کا پتہ نہیں ۔ غرض اس پر ذکر فرماتے رہے کہ مخالفوں نے ہر طرح سے مخالفت کی مگر خدا نے ترقی کی ۔ یہ سچائی کی دلیل ہے کہ دنیا ٹوٹ کر زور لگا دے اور حق پھیل جاوے۔ اب ہمارے مقابل کو نسا دقیقہ مخالفت کا چھوڑا گیا مگر آخران کو نا کامی نساد ہی ہوئی ہے یہ خدا کا نشان ہے اس میں دو چیزوں نے بڑی مدد دی۔ طاعون نے بیعت کرنے والوں کو بڑھایا اور مردم شماری نے تصدیق کی ۔ له حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ حق کی یہ بھی ایک پہچان ہے اور اس کی شناخت کا یہ ایک عمدہ معیار ہے کہ دنیا اپنے سارے ہتھیاروں سے اس کی مخالفت پر ٹوٹ پڑے جان سے، مال سے،اعضا سے،عزت سے،اور اندرونی اور بیرونی لوگ اور اپنے اور پرائے گویا سب ہی اس کی مخالفت پر کھڑے ہو جاویں اور پھر وہ ( حق ) آگے ہی آگے قدم رکھتا جاوے اور کوئی روک اس کی ترقی کو نہ روک سکے چنانچہ قرآن شریف میں ہے کہ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُونِ الخ (هود: ۵۶) سواس معیار سے ہمارے سلسلہ کو پرکھا جاوے تو ایک طالب حق کے واسطے کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔ دیکھ لونہ ہمارا کوئی واعظ ہے، نہ کوئی لیکچرار اور دشمن بھی کیا اندرونی کیا بیرونی سب اکٹھے ہو کر ہمارے تباہ کرنے کی کوشش میں لگے رہے مگر اللہ تعالیٰ نے ہر میدان میں ہمیں کامیاب کیا اور دشمن ذلیل ہوئے کفر کے فتوے لگائے قتل کا مقدمہ کیا غرض کہ انہوں نے کوئی دقیقہ ہماری بربادی کا اٹھا نہ رکھا مگر کیا خدا سے کوئی جنگ کر سکتا ہے؟ ہماری ترقی کے خود مخالف ہی باعث اور محرک ہیں بہت لوگوں نے انہیں کے رسائل سے اطلاع پاکر ہماری بیعت کی۔ اگر واعظ وغیرہ ہماری طرف سے ہوتے تو ہمیں ان کا بھی مشکور ہونا پڑتا اور یہ بھی ایک شعبہ شرک کا ہو جاتا مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے بچایا الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۵ ، ۱۶