ملفوظات (جلد 3) — Page 362
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۲ جلد سوم مَدَارِج ستہ سے گذر کر اس پر ایک موت آتی ہے اور پھر اسے ایک احیاء دیا جاتا ہے۔ یہ ایک مسلّم مسئلہ ہے کہ ہر حیات سے پہلے ایک موت ضرور آتی ہے۔ اس آیت میں صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ ایک زمانہ ان پر ایسا گذرا ہے کہ وہ بالکل مردہ تھے یعنی ہر قسم کی ضلالت اور ظلمت میں مبتلا تھے پھر ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ زندگی عطا ہوئی اور پھر ان کی تکمیل اور ایک موت ان پر وارد ہوئی جو فنا فی اللہ کی موت تھی اس کے بعد ان کو بقا باللہ کا درجہ ملا اور ہمیشہ کے لئے زندگی پائی ۔ ایک حدیث مولوی فتح الدین نے پیش کی جس کی تاویل کر کے اسے مسیح موعود کرے ایک حدیث کا ذکر کے وجود پرچیاں کیا جاتا تھا۔ فرمایا۔ کیا ضرورت ہے اس بات کی خدا تعالیٰ نے کھلی کھلی تائیدیں ہمارے لئے رکھ دی ہیں کیا مَنَاكَم ثَلَاثَة ہمارے مخالفوں کے لیے کافی نہیں ایک بخاری کا مِنْكُمْ ( إِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ) مسلم کا مِنْكُمْ (آمَكُمْ مِنْكُمْ ) اور سب سے بڑھ کر قرآن کا مِنْكُمْ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ ) ( النور : ۵۶) منشی نعمت علی صاحب نے بیعت کرنے والے ہمارے بدن کے مجزو ہو گئے کھانے کے لئے عرض کیا ۔ فرمایا۔ تکلف کرنے کی کیا ضرورت ہے ہم کھانا کھا چکے ہیں جب تم لوگوں نے بیعت کر لی تو گویا ہمارے بدن کے جزو ہو گئے پھر الگ کیا رہ گیا۔ یہ باتیں تو اجنبی کے لئے ہو سکتی ہیں۔ جماعت کی اعجازی ترقی کے ذکر پر فرمایا کہ جماعت کی اعجازی ترقی ہماری طرف سے کوئی عی نہیں کی جاتی، ہمارے واعظ نہیں، بایں ہمہ اس قدر ترقی ہو رہی ہے کہ عقل حیران ہے اور اصل یہ ہے کہ اگر ہماری سعی اور کوشش سے کچھ ہوتا ہے تو شاید شرک ہوتا۔ اس لئے خدا تعالیٰ خود جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ممالک مغربی و شمالی میں جہاں ہم کو تین آدمیوں کا بھی علم نہیں مردم شماری کے رُو سے نو سو سے زائد آدمی ہیں اور یہ جماعت اب ایک لاکھ سے بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں۔ مخالف خود محرک ہو رہے ہیں بعض لوگوں کے خطوط