ملفوظات (جلد 3) — Page 357
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۷ جلد سوم ابوالقاسم نے کہا کہ بات اصل میں یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض کمالات مخفی تھے ان کا ظہور اور بروز وہاں آنے سے ہوا۔ ابوسعید نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے آئے تھے کہ بعض ناقص کے ابھی موجود تھے ان کی تکمیل کے لئے آئے۔ گویا دونوں نے اپنے اپنے رنگ پر اپنی انکساری کا اظہار کیا اور ایک دوسرے کی تکریم ۔ اسی طرح ہمارے یہاں آنے کی غرض تو یہی معلوم ہوتی ہے کہ میاں نبی بخش سے ملاقات ہوگئی کچھ تبلیغ ہو جائے گی بہت لوگوں کو فائدہ پہنچ جائے گا۔ شہادت کے تذکرہ پر فرمایا کہ شہادت کا چھپانا گناہ ہے شہادت کا چھپانا گناہ ہے اور جب سرکار بلائے تو ضرور حاضر ہونا چاہیے شہادت سے جب کسی کی بھلائی ہو اور حق کھل جاوے تو کیوں ادا نہ کرے۔ ہر جگہ جو انسان قدم رکھتا ہے اس میں خدا کی حکمت ہوتی ہے زمین پر کچھ نہیں ہوتا جب تک آسمان پر تحریک اور مقدر نہ ہو۔ کے ایک سائل نے آکر کچھ مانگا آپ نے میر صاحب کو حکم دیا کہ اس کو کچھ دے دیں اور جو آ جائیں ان کو بھی کچھ نہ کچھ دے دو۔ سے ل البدر میں ہے کہ بعض لوگ مدینہ میں ناق ناقص تھے اور معرفت کے پیاسے تھے ان کو کامل کرنے اور دلوں کی پیاس بجھانے کے لئے آپ مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے ۔“ (البدر جلد نمبر ۴ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲۶) البدر میں ہے کہ شہادت تو ایک بہانہ تھا اور نہ اصل غرض اللہ تعالیٰ کی بعض لوگوں کو فائدہ پہنچانا تھا سو وہ پہنچ گیا۔“ البدر جلد نمبر ۴ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲۶) سے الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ رنومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۴، ۱۵