ملفوظات (جلد 3) — Page 356
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۶ جلد سوم تبریہ کیا اور ان الزاموں سے پاک کیا جو ان پر ناپاک یہودی لگاتے تھے جو یہودی مسلمان ہوتا تھا کتنی بڑی بات ہے کہ حضرت عیسی کی رسالت کا اسے پہلے اقرار کرنا پڑتا تھا۔ فرمایا۔ عیسائی مذہب ایسا ہے کہ اس کو پیدا ہوتے ہی صدمہ پہنچا جیسے کوئی لڑکی پیدا ہوتے ہی اندھی ہو ایسا ہی اس مذہب کا حال ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر احسان کیا اور اس کو پاک کیا۔ بٹالہ آنے کا تذکرہ ہو پڑا فرمایا۔ نبی کا ہر سفر حکمت الہی پر مبنی ہوتا ہے ہمارا یہاں آنا تو کوئی اور حکمت کا یہاں ہی رکھتا ہے ورنہ یہ شہادت کیا اور شہادت بھی لاعلمی کی ۔ ہے اس پر آپ نے فرمایا کہ دو بزرگ ابوالقاسم اور ابوسعید نام تھے۔ اتفاق سے دونوں ایک جگہ اکٹھے ہو گئے ان کے ایک مرید نے کہا کہ میرے دل میں ایک سوال ہے اتفاق سے دونوں ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں ۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں اور وہ سوال یہ پیش کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو مدینہ میں آئے تھے اس کی وجہ کیا تھی ؟ ل البدر میں ہے کہ ان پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے احسانات ہیں کہ آپ نے ہر ایک قسم کے الزام سے ان کو بری کیا جو کہ یہودی لوگ ان پر لگاتے تھے۔ ورنہ وہ تو بیچارے جس دن سے پیدا ہوئے اس دن سے لوگوں کی لعنت کے مورد ہوئے کیا یہودیوں نے ان کے ساتھ تھوڑی کی ہے ابتدا بھی ان کی لعنت سے ہے اور انتہا بھی لعنت سے ہے دراصل تو ان کا مصدق دراصل تو ان کا مصدق کوئی نظر نہیں آتا۔ یہود تو لعنت کرتے تھے تھے لیکن جو حواری تھے وہ بھی لعنت کرتے تھے ایک نے ان میں سے تین بار لعنت کی پھر چھوڑ کر چلے گئے صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ان کے مصدق بنے کہ ہر ایک عیب سے ان کی بریت کی بھلا اس سے بڑھ کر اور کیا احسان ہو سکتا ہے کہ بجائے لعنت کے رحمت کا خطاب ان کو دلا یا اب ۹۵ کروڑ مسلمان رحمۃ اللہ کا لفظ بولتے ہیں ۔“ البدر جلد نمبر ۴ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲۶) البدر میں ہے کہ ہمارا اس جگہ آنا بھی حکمت الہی پر مبنی ہے ورنہ یہ شہادت تو ایک ایسا معاملہ ہے جس کا جواب ہمارے پاس سوائے لاعلمی کے اور کچھ نہیں ۔“ البدر جلد نمبر ۴ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۲۶)