ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 358 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 358

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۸ جلد سوم ایک مولوی صاحب جو کہ عیسائیوں کے ساتھ مباحثات کے بہت مشاق عیسائیوں سے مباحثات تھے انہوں نے حضرت اقدس سے نیاز حاصل کی حضرت اقدس نے دریافت فرمایا کہ آپ کا وہ مباحثہ ہوا کہ نہیں ۔ مولوی صاحب نے جواب دیا کہ عیسائی لوگ مباحثہ سے بھاگ گئے ۔ بالکل مقابل نہیں آئے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ اب آپ لوگوں کے وہ پرانے ہتھیار کام نہیں دیتے وہ گند ہو گئے ہیں اور خاطر خواہ کام نہیں دیتے بلکہ ان سے الٹا ضرر اسلام کو پہنچتا ہے انتیس لاکھ کے قریب مسلمان مرتد ہو چکے ہیں ۔ مباحثات کا اثر بحیثیت مجموعی دیکھنا چاہیے فرداً فرداً کچھ پتہ نہیں لگا کرتا۔ منشی نبی بخش صاحب نے عرض کی کہ حضور جس آیت کو ہم وفات مسیح کے استدلال میں پیش کرتے ہیں یعنی مَا جَعَلْنَا لِبَشَرِ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ (الانبیاء : ۳۵) عیسائی لوگ اس آیت سے استدلال پکڑ کے ان لوگوں کے سامنے الوہیت مسیح ثابت کرتے ہیں جس کا ان لوگوں سے کچھ جواب بن نہیں آتا۔ وہ اس آیت سے مسیح کو بشریت سے الگ کر کے ان کو قائل کرتے ہیں کہ جب وہ زندہ آسمان پر ہے تو بہر حال الوہیت کے رنگ میں ہوا اگر بشر ہوتا تو مر گیا ہوتا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ سوال تو ان کا بڑا معقول ہے ان مولویوں کو چاہیے کہ اس کا جواب دیویں۔ اب دیکھئے کہ اگر مسلمانوں کے دو چار جلسوں میں یہ سوال پیش ہو اور مولوی اس کے جواب میں ساکت رہیں اور جواب میں قاصر رہیں تو پھر اسلام کی ذریت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے ایسے ایسے سوالوں کے بعد اگر مسلمان مرتد نہ ہوں تو کیا کریں؟ پھر انہی مولوی صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ ہوکر مولوی صاحب فرمائیے اب آپ کے ہتھیار کس کام کے ہیں۔ بلکہ یہ لوگ تو اس بات کے بھی قائل ہیں کہ حضرت عیسی نے بہت سے پرندے بھی بنائے جو اب اللہ تعالیٰ کی مخلوق شدہ پرندوں میں مل جل گئے ہیں گو یا فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ہو گیا ہے۔ ان کے سوا ان لوگوں کے اور ایسے عقیدے ہیں کہ اگر ان کا عیسائیوں کو پتہ لگ جاوے تو وہ ان