ملفوظات (جلد 3) — Page 355
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۵ جلد سوم منشی محمد یوسف صاحب اپیل نویس مردان سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ ایک دینی جہاد کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ اسی کی جزا دے گا۔ لے میں نے ایڈیٹر الحکم کو کم دیا ہے کہ وہ سارا مباحثہ الحکم میں چھاپ دیں جو زائد کا پیاں آپ کو مطلوب ہوں ان سے لے لیں ۔ زائد اخراجات آپ کو برداشت نہ کرنے پڑیں گے اور ثواب بھی ہو گیا۔ اور فرمایا کہ آپ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جلدی اس سلسلہ کو پھیلا رہا ہے اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے کہ اس سلسلہ کو دنیا میں پھیلائے ۔ ضمناً فرمایا۔ کوئی درخت اتنی جلدی پھل نہیں لاتا جس قدر جلدی ہماری جماعت ترقی کر رہی ہے یہ خدا کا فعل ہے اور عجیب۔ یہ خدا کا نشان اور اعجاز ہے۔ فرمایا۔ مسیح ناصری کے متعلق صحابہ کرام کا عقیدہ میچ نہیں ہے کہ صحابہ حضرت مسیح کی اس شان کے قائل تھے جو خدائی کے ناواقف مسلمانوں نے ان کی بنا رکھی ہے اگر وہ مسیح کو اسی شان سے مانتے کہ وہ حقیقی مردے زندہ کرتے تھے اور حتی وقیوم تھے تو ایک بھی مسلمان نہ ہوتا اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ان کی صفات کو یقین کرتے تو وہ اخلاص اور وفاداری ان میں پیدا نہ ہوتی ۔ حضرت مسیح علیہ السلام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان فرمایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت ہی بڑا احسان ہے کہ آپ نے ان کا ل البدر میں ہے۔ آپ دلگیر نہ ہوں آپ ایک دینی جہاد میں مصروف ہیں اللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ اس سلسلہ کو ایسا پھیلا دے گا کہ یہ سب پر غالب ہوں گے اور آجکل کے موجودہ ابتلا دور ہو جاویں گے خدا کی یہی سنت ہے کہ ہر ایک کام بتدریج ہو۔ کوئی درخت اتنی جلد پھل نہیں لاتا جس قدر جلدی ہماری جماعت ترقی کر رہی ہے یہ خدا کا فعل ہے اور اس کا نشان “ 66 البدر جلد نمبر ۳ مورخه ۱۴ نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۲۳)