ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 350

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۰ جلد سوم أَنْ جَاءَهُ الْأَعْلی ( عبس : ۲، ۳) وہ کیوں نہ اچھا ہوا حالانکہ آپ تو افضل الرسل تھے اور بھی اندھے تھے ایک دفعہ سب نے کہا کہ یا حضرت ہمیں جماعت میں شامل ہونے کی بہت تکلیف ہوتی ہے آپ نے حکم دیا کہ جہاں تک اذان کی آواز پہنچتی ہے وہاں تک کے لوگوں کو ضرور آنا چاہیے۔ مباحثہ کے ذکر پر فرمایا کہ شریر آدمیوں کا کام ہے کہ آنکھ، کان، ناک اور ٹانگ وغیرہ کاٹ کر پھر کلام کو ایک مسخ شدہ صورت میں پیش کرتے ہیں یہ مباحثہ بھی ہمارے لئے ایک فتح حدیبیہ کی صلح کی طرح کسی فتح کی بنیاد ہی نظر آتا ہے۔ پھر فرمایا کہ جماعت کا اخلاص ہماری جماعت جان و مال سے قربان ہے اگر ہمیں ایک لاکھ کی ضرورت ہو تو وہ مہیا کر سکتے ہیں اول بار عوام الناس نے علمی باتوں کو نہ سمجھا اس لئے اب اللہ تعالٰی نشانوں سے سمجھاتا ہے۔ پھر شیعوں کے ذکر اذکار ہوتے رہے کہ ان لوگوں میں یہ بھی عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی شکل علی کی شکل ہے معراج میں بھی خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آیا تو علی کی شکل پر آیا۔ زمانہ کے مولویوں کی حالت پر فرمایا کہ مولویوں کی حالت ایسے مولویوں کے ہوتے ہوئے دین کے استیصال کے لئے پادریوں کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ پھر اعتراضوں پر فرمایا کہ نبی سے اجتہاد میں غلطی ہوسکتی ہے کیا وجہ ہے کہ ہیلو ہم پر ٹیکس لگاتے ہیںجو پرده اول انبیاء کو معاف کرتے ہیں ان سے بھی اجتہادی غلطیاں ہوتی رہیں۔ ہاں وحی میں غلطی نہیں ہوتی پھر اگر اجتہاد کو بھی غلطی سے مبرا خیال کرتے ہیں تو وہ اجتہاد کیوں نام رکھتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہ کو کھجوروں کے درختوں کے متعلق کچھ ہدایات دیں پھر جب نتیجہ وہ نہ نکلا تو آپ نے فرما یا انتُمْ اَعْلَمُ بِأُمُورِ دُنْيَا كُمْ تو کیا اس سے آپ کی نبوت میں فرق آگیا ہے