ملفوظات (جلد 3) — Page 349
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۹ جلد سوم ۵ رنومبر ۱۹۰۲ء بروز چهارشنبه ( بوقت سیر ) حضرت اقدس حسب معمول سیر کے لئے تشریف لائے ۔ آتے ہی قاضی خاتمہ بالخیر چاہیے امیر حسین صاحب مدارس عربی مدرس تعلیم الاسلام قادیان کے والد ماجد مسٹمی غلام شاہ صاحب تاجر اسپاں سے ملاقات ہوئی انہوں نے حضرت اقدس کے دستِ مبارک کو بوسہ دیا اور نذر گذرا ئی ۔ حضرت اقدس ان کے حالات دریافت فرماتے رہے معلوم ہوا کہ اسی سال ئی۔ سے زیادہ ہ عمر عمر آر آپ پ کی ہے انہوں نے درخواست درخواست کی کی کہ کہ میرے میرے : خاتمہ بالخیر کی دعا فرمائی جاوے۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ بس یہی بڑی بات ہے کہ خاتمہ بالخیر ہو۔ کسی نے نوح سے دریافت کیا تھا کہ آپ تو قریب ایک ہزار سال کے دنیا میں رہ کے آئے ہیں بتلائیے کیا کچھ دیکھا ۔ نوح نے جواب دیا کہ یہ حال معلوم ہوا ہے جیسے ایک دروازہ سے آئے اور دوسرے سے چلے گئے۔ تو عمر کا کیا ہے لمبی ہوئی تو کیا تھوڑی ہوئی تو کیا خاتمہ بالخیر چاہیے۔ پھر ایک بڑ کے درخت کی طرف اشارہ کر کے حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم سے تو یہ درخت ہی اچھا ہے ہم چھوٹے ہوتے تھے تو اس کے تلے ہم کھیلا کرتے تھے یہ اسی طرح ہے اور ہم بڑھے ہو گئے ہیں یہ سال بہ سال پھل بھی دیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ پرسوں میں نے انشاء اللہ (ایک شہادت کے واسطے ) بٹالہ جانا ہے اس میں کوئی حکمت الہی ہوگی اس لئے کل سیر موقوف رہے گی ۔ مہندی لگاؤں گا۔ فرض منصبی میں التوا ہو گیا ہے مگر خدا کی حکمت ہی ہو گی وہ جرح نہ ڈالے گا۔ مولوی محمد علی صاحب کو ہمراہ لے جاؤں گا۔ محمد یوسف صاحب اپیل نویس نے بیان کیا کہ مباحثہ مدکسی فتح کی بنیاد نظر آتا ہے حضور موضع بد کے مبادے میں ایک اعتراض یہ بھی کیا گیا تھا کہ مرزا صاحب تمہاری آنکھ کیوں نہیں اچھی کر دیتے حضرت اقدس نے فرمایا۔ یہ جواب دیاتھا اللہ علیہ وسلم کے اندھاتا لکھا جواب دینا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اندھا تھا جیسے لکھا ہے عَبَسَ وَ تَوَلَّی