ملفوظات (جلد 3) — Page 334
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۴ جلد سوم خدائی کا دعویٰ تو نہیں کیا نہ آپ خدا بنائے گئے مگر خدا نے مسیح کے منہ سے نکلوا کر اقرار کرالیا کہ دوبارہ آنے کے یہ معنے ہوتے ہیں ۔ کوئی بادشاہ وہ طریق اختیار نہیں کرتا جس سے اس کی بادشاہی میں خلل آوے پس خدا کیوں ایسا طریق اختیار کرے جس سے اس کی خدائی میں بٹہ لگے ۔ پھر میاں فتح دین صاحب نے کہا کہ ہم لوگ مومن کو اللہ رسوائی کی موت نہیں دیتا بڑے خطاکار میں کئی فاسد خیال آتے رہتے اور طاعون کا زور ہورہا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ میں یہ یقیناً جانتا ہوں کہ جس کو دل سے خدا سے تعلق ہے اسے وہ رُسوائی کی موت نہیں دیتا۔ ایک بزرگ کا قصہ کتب میں لکھا ہے کہ ان کی بڑی دعا تھی کہ وہ طوس کے مقام میں فوت ہوں ایک کشف میں بھی انہوں نے دیکھا کہ میں طوس میں ہی مروں گا پھر وہ کسی دوسرے مقام میں سخت بیمار ہوئے اور زندگی کی کوئی امید نہ رہی تو اپنے شاگردوں کو وصیت کی کہ اگر میں مر گیا تو مجھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کرنا۔ انہوں نے وجہ پوچھی تو بتلایا کہ میری بڑی دعا تھی کہ میں طوس میں مروں مگر اب پتہ لگتا ہے کہ وہ قبول نہیں ہوئی اس لئے میں مسلمانوں کو دھوکا نہیں دینا چاہتا اس کے بعد وہ رفتہ رفتہ اچھے ہو گئے اور پھر طوس گئے وہاں بیمار ہو کر مرے اور وہیں دفن ہوئے ۔ اس لئے مومن بننا چاہیے مومن ہو تو خدا رسوائی کی موت نہیں دیتا اور دل کے خیالات پر مواخذہ نہیں ہوتا جب تک کہ انسان عزم نہ کر لے ایک چور اگر بازار میں جاتا ہوا ایک صراف کی دوکان پر روپوں کا ڈھیر دیکھے اور اسے ا خیال آوے کاش کہ میرے پاس بھی اس قدر روپیہ ہو اور پھر اسے چرانے کا ارادہ کرے مگر قلب اسے لعنت کرے اور وہ باز رہے تو گنہگار نہ ہوگا اور اگر پختہ ارادہ کر لے کہ اگر موقع ملا تو ضرور چرالوں گا تو گنہگار ہو گا آدم کے قصہ میں بھی خدا فرماتا ہے وَ لَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا (طه: ١١٦) یعنی ہم نے اس کی (بقیہ حاشیہ ) نسبت کہا کہ آنے والا ایلیا یہی ہے چاہو تو قبول کرو یہودیوں نے اس کو تسلیم نہ کیا کیونکہ ان کے ہاں پہلے کوئی نظیر ب بھی اب یہ فیصلہ تو خود مسیح ہی کا کیا ہوا ہے جس کے لئے اب یہ اس قدر ٹکریں مارتے ہیں ۔“ الحکم جلد ۶ نمبر ۱ ۴ مورخہ ۱۷ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳)