ملفوظات (جلد 3) — Page 335
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۵ جلد سوم عزیمت نہیں پائی عطى ادم (طه: ۱۲۲) کے معنے ہیں کہ صورت عصیان کی ہے مثلاً آقا ایک غلام کو کہے کہ فلاں رستہ جا کر فلاں کام کر آؤ تو وہ اگر اجتہاد کرے! رے اور دوسرے راہ سے جاوے تو عصیان تو ضرور ہے لیکن وہ نافرمان نہ ہوگا صرف اجتہادی غلطی ہوگی جس پر مواخذہ نہیں ۔ پھر کسی نے خرگوش کے حلال ہونے پر حضرت اقدس سے پوچھا تو آپ نے خرگوش حلال ہے فرمایا کہ اصل اشیاء میں حلت ہے حرمت جب تک نص قطعی سے ثابت نہ ہو تب تک نہیں ہوتی ۔ حدیث کے متعلق ہمارا مذہب ہے کہ ادنیٰ سے ادنی بھی ہو تو اس پر عمل کر لیا حدیث کا مقام جاوے جب تک کہ وہ مخالف قرآن نہ ہو۔ پھر سنت پر ذکر ہوتے ہوتے فرمایا کہ امام اعظم علیہ الرحمۃ نے رفع یدین پر کیوں عمل نہ کیا۔ کیا اس وقت حدیث کے راوی نہ تھے راوی تو تھے مگر چونکہ یہ سنت اس وقت ان کو نظر نہ آئی اس لئے انہوں نے عمل نہیں کیا۔ مولویوں کی بد قسمتی ہے کہ یہودو نصاری محرف و مبدل تو ریت کو لئے پھرتے ہیں اور یہ بجائے قرآن کے حدیثوں کو لئے پھرتے ہیں ۔ نماز جنازہ پڑھنے پر آپ نے فرمایا کہ غیر از جماعت کی نماز جنازہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منافق کو گرتہ دیا اور رسول اس کے جنازہ کی نماز پڑھی۔ ممکن ہے کہ اس نے غرغرہ کے وقت تو بہ کر لی ہو۔ مومن کا کام ہے کہ حُسنِ ظن رکھے اسی لئے نماز جنازہ کا جواز رکھا ہے کہ ہر ایک کی پڑھ لی جاوے۔ ہاں اگر کوئی سخت معاند ہو یا فساد کا اندیشہ ہے تو پھر نہ پڑھنی چاہیے ہماری جماعت کے سر پر فرضیت نہیں ہے بطور احسان کے ہماری جماعت دوسرے غیر از جماعت کا جنازہ پڑھ سکتی ہے۔ وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلوتَكَ سَكَنْ لَهُمُ (التوبة : ۱۰۳) اس میں صلوٰۃ سے مراد جنازہ کی نماز ہے سكن لهم دلالت کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا گنہگار کو سکینت اور ٹھنڈک بخشتی تھی۔