ملفوظات (جلد 3) — Page 333
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۳ جلد سوم خود ظنیات ہیں یعنی صدق اور کذب کا ان میں احتمال ہے اس کے یہ معنے ہیں کہ ممکن ہے کہ سچ ہو اور ممکن ہے کہ جھوٹ ہولیکن قرآن شریف ایسے احتمالات سے پاک ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قرآن شریف تک ہی ہے۔ پھر آپ فوت ہو گئے اگر یہ احادیث صحیح ہوتیں اور مداران پر ہوتا تو آنحضرت فرما جاتے کہ میں نے احادیث جمع نہیں کیں فلاں فلاں آوے گا تو جمع کرے گا تم ان کو ماننا۔ قرآن کا نام فرقان رکھا ہے یعنی فیصلہ کرنے والا ہے۔ لیکن یہ لوگ کہتے ہیں سنت اور حدیث کہ اب اس کا نام فرقان نہیں۔ اول قرآن مقدم رکھا جاوے۔ دوسری سنت ۔ سنت یہ ہے کہ قرآن میں جو احکام آئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کر کے ان کو دکھلا اللہ دیا جیسے نماز پڑھ کر بتلادی کہ صبح کی یوں ہوتی ہے شام کی یوں ۔ جیسے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن شریف سے استنباط کئے ویسے وہ ویسے ویسے آپ بتلاتے رہے اور جو آپ کے اقوال تھے ان کا نام حدیث ہے ایک سنت یہ بھی تھی کہ آپ فوت ہو گئے قرآن شریف میں تھا کہ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (ال عمران : ۱۴۵ ) - یعنی سب مر گئے وہ بھی مرے گا خدا کی لو بات پوری ہو گئی کہ آپ مر گئے ۔ اے ہمارے ہاتھ میں تو ایک نظیر ہے اگر یہ پوچھیں کہ جو تاویل ( نزول مسیح کی ) تم پیش نزول بیچ کرتے ہو کسی نے آگے بھی کی ہے تو ہم جواب دیتے ہیں کہ جس کے بارے میں تم کو مصیبت پڑی ہے ( یعنی مسیح) اس نے خود یہ تاویل کی ہے اس کو بھی اس وقت مصیبت پڑی تھی تو ہماری جماعت میں داخل ہو کر آخر اس کی رہائی ہوئی ۔ نظیر بھی کوئی شے ہوتی ہے خدا تعالیٰ بھی اپنی سنت بطور نظیر ہے کے پیش کیا کرتا ہے اگر آنحضرت دوبارہ آجاتے تو کوئی حرج نہ تھا آپ نے کوئی اء الحکم میں لکھا ہے ۔ اپنی سنت سے ثابت کر دیا کہ باقی نبی بھی فوت ہو گئے ۔ کے الحکم میں اس کی تفصیل یوں لکھی ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۱ مورخہ ۷ ۱ رنومبر ۱۹۰۲ صفحه ۳ کالم اول ) ہمارا آنا اللہ تعالیٰ کی سنت قدیمہ کے موافق ہے اور اس کی نظیر موجود ہے یہودی الیاس کے آنے کے منتظر تھے مگر جب انہوں نے مسیح کے سامنے یہ سوال پیش کیا کہ ایلیا کہاں ہے تو اس نے اس کا آنا بروزی رنگ ہی میں بتایا اور یوحنا کی