ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 332

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۲ جلد سوم لِبَنِي إِسْرَائِيلَ (الزخرف: ۶۰ ) بھی اسی کی تصدیق کرتا ہے۔ ساعت کے معنے آخرت کے بھی ہیں ۔ إِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ الآلَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ( النِّساء : ۱۶۰) کے یہ معنے کرتے ہیں کہ وہ اب تک زندہ موجود ہے جب آویں گے تو گل اہلِ کتاب ایمان لاویں گے اس کے متعلق ابی ہریرہ کی حدیث پیش کرتے ہیں حالانکہ تفسیر مظہری میں اس کے اوپر کس قدر مطاعن ہیں ۔ یہ کہنا کہ گل لوگ اس وقت ایمان لاویں گے غلط ہے۔ قرآن سے ثابت ہے کہ قیامت تک کافر رہیں گے قرآن کو ہر حال میں مقدم رکھنا چاہیے قرآن کے نصوص قطعیہ بالکل فیصلہ کر دیتے ہیں۔ سورہ تحریم میں ہے کہ مسیح بن مریم اسی اُمت میں سے ہوگا ۔ سورۃ النور میں ہے کہ تمام خلیفہ اسی اُمت میں سے ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح کا نام حکم رکھا ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ بہت فرقہ ہوں گے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ غلطیاں کثرت سے ہوں گی ۔ قرآن میں نزول کے معنے مختلف مقام پر مختلف ہیں اگر اعتراض ہو کہ پھر نزول کی حقیقت نزول کا لفظ استعمال ہی کیوں ہوا اور کوئی لفظ حدیث میں کیوں نہ آیا تو جواب یہ ہے کہ مسلم کی ایک حدیث میں مبعوث کا لفظ بھی آیا ہے نزول کا لفظ اس لئے استعمال ہوا کہ اس وقت کل برکات اور فیوض اٹھ جاویں گے اور پھر آسمان سے نازل ہوں گے قرآن میں خود آنحضرت کے بارے میں ہے کہ ہم نے اسے آسمان سے نازل کیا اور آسمان ہی سے پانی بھی اترتا ہے اگر آسمان سے بارش نہ ہو تو کو ئیں بھی پانی نہیں دیتے لمبے تحطوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان لوگوں کو وصیت تھی کہ میرے بعد بخاری کو ماننا؟ بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت تو یہ تھی کہ کتاب اللہ کافی ہے۔ ہم قرآن سے پوچھے جاویں گے نہ کہ زید و بکر کے جمع کردہ سرمایہ سے۔ یہ سوال ہم سے نہ ہو گا کہ تم صحاح ستہ وغیرہ پر کیوں نہ ایمان لائے؟ پوچھا تو یہ جاوے گا کہ قرآن کو کیوں نہ مانا ؟ بحث کے قواعد ہمیشہ یاد رکھو۔ اوّل قواعد مرتب ہوں ۔ پھر سوال مرتب بحث کے اصول ہوں ۔ کتاب اللہ کو مقدم رکھا جاو۔ و مقدم رکھا جاوے احادیث ان کے اقرار کے بموجب