ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 331

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۱ جلد سوم طرح سے ایک ٹانگ ٹوٹ گئی جب قرآن شریف بار بار اوپر کے آنے سے منع کرتا ہے تو حدیث جو کسی طرح سے خواہ حقیقتاً خواہ استعارہ کے طور پر قرآن شریف کے برابر نہ آسکے تو وہ ہر حال میں نا قابلِ اعتبار ٹھہرے گی ورنہ اس طرح سارا اسلام درہم برہم ہو جاوے گا۔ تمام ستون اور مدار اسلام کا قرآن پر ہے جب قرآن شریف میں ہے کہ عیسی فوت ہو گئے پھرا انکار کیسا؟ پھر فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي ( المائدة : (۱۱۸) کی نسبت آپ مولوی فتح دین کو سمجھاتے رہے۔ پھر احادیث کے بیان کی طرف رجوع کر کے فرمایا کہ اگر ان کا حدیث پر اس قدر اعتبار ہے تو رفع یدین کی جو چار سوا حادیث آئی ہیں اس پر کیوں نہیں عمل کرتے ۔ ہمارا مسئلہ خدا کی سنت قدیمہ کے موافق ہے جیسے یہ آمد کے منتظر ہیں ویسے ہی یہودی الیاس کے منتظر تھے۔ پیغمبر کے لئے ضروری نہیں ہے کہ اس کا علم اتنا وسیع ہو جیسے خدا کا ہے۔ یہ پیغمبر پر جائز ہے کہ بعض امور کی تفصیل اس پر نہ کھل سکے۔ جیسے کہ بہت سے آخرت کے امور ہیں کہ انسان کو مرنے کے بعد معلوم ہوتے ہیں تو پھر یہ لوگ اپنے علم پر کیوں اس قدر باتیں کرتے ہیں یہودیوں کو الیاس کی انتظار تھی مسیح نے کہا کہ یحییٰ الیاس ہے خواہ قبول کرو خواہ نہ، پھر اسی وقت جا کر یحییٰ سے دریافت کیا اور دریافت بھی ایسے الفاظ سے کیا ہو کہ اسے یہی جواب دینا پڑے کہ میں وہ الیاس نہیں ۔ ہم نے دیکھا ہے کہ یہ بار بار احادیث پیش کرتے ہیں اور ان میں سے نزول کو لیتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ اگر اسی مسیح نے آنا تھا تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے کا خلیہ کیوں الگ بتلایا اور کہا کہ آنے والے مسیح کو تم اس طرح پہچانو ۔ اس کی کیا ضرورت تھی؟ مباحثہ میں بھی اصول رکھا جاوے کہ قرآن شریف مقدم ہے یہ منوا کر ان سے کہا جاوے تقدم قرآن تو اب مقبولہ فریقین ہے باقی امور اسی سے فیصلہ کر لو۔ اگر حدیثوں پر سارا مدار ہے تو قرآن کی کیا ضرورت ہے جو کہتا ہے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ جھوٹے دھوکے ہیں۔ إِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ (الزخرف : (۶۲) کے یہ معنے ہیں کہ یہودیوں إِنَّهُ لَعِلْمُ السَّاعَةِ کے ادبار اور ذلت کی نشانی مسیح کے آ۔ آنے کا وقت تھا اور جَعَلْنَهُ مَثَلًا