ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 330

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۰ جلد سوم اخلاص اور توجہ عطا کی ہے خود اس نے ابتدا کی ہے اس خدا کا فضل کے لئے شکر کرو کہ وہ اور ر وہ اور بھی بڑھا دے یہ محض اس کا فضل ہے جو اس نے حق شناسی کی توفیق دی ورنہ اگر دل سخت کر دے تو انسان رجوع نہیں کر سکتا۔ یہ اسی کے فضل سے ہوتا ہے جو یقین اور اخلاص عطا کرتا ہے اور اس کے شکر پر اس کو بڑھاتا ہے پس شکر کرو کہ اس کا فضل اور بھی ترقی کرے نمازوں میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة : ۵) کا تکرار بہت کرو۔ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ له خدا کے فضل اور گمشدہ متاع کو واپس لاتا ہے۔ لے یکم نومبر ۱۹۰۲ء بروز شنبه ( بوقت سیر ) حضرت اقدس حسب دستور سیر کے لئے نکلے تمام راہ میاں فتح دین صاحب مولوی حضرت اقدس کے مخاطب رہے حضرت اقدس بار بار ان کے ذہن نشین یہ امر کراتے رہے کہ مباحثات میں ہمیشہ دیگر طریق استدلال کو چھوڑ کر اس طریق کو اختیار کرنا چاہیے کہ قرآن شریف مقدم ہے اور احادیث ظن کے مرتبہ پر ہیں قرآن شریف سے جو امر ثابت ہو اس کو کوئی حدیث خواہ پچاس کروڑ ہوں ہرگز رد کر نہیں سکتیں ۔ چونکہ اس گفتگو میں میاں فتح دین صاحب بھی بعض اوقات احادیث سے اپنے استنباط جو کہ انہوں نے اپنی منظوم کتاب میں درج کئے ہیں مفصل حضرت اقدس کو سناتے رہے اور حضرت اقدس - مختلف طور پر ان کو سمجھاتے رہے اس لئے ہم حضرت اقدس کے کلمات کو مختصر درج کرتے ہیں ۔ ان لوگوں سے پوچھنا چاہیے کہ تم خود قائل ہو کہ اسلام کا مدار قرآن شریف پر ہے اصح کتاب قرآن شریف ہے احادیث ۱۵۰ برس بعد جمع ہوئیں پھر ان میں باہم تناقض ہے ایک میں مہدی کا ذکر ہے ایک میں ہے لا مَهْدِی إِلَّا عیسی ۔ ایک طرف مہدی کی حدیث ضعیف لکھی ہے پھر کہتے ہیں کہ مسیح اوپر سے اترے گا تو ایک الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۲