ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 329

ملفوظات حضرت مسیح موعود محروم رہ جاتا ہے۔ ۳۲۹ جلد سوم فرمایا۔ حق شناسی کی راہ میں اگر وہم اور بزدلی نہ ہو تو کوئی مشکل نہیں ہے۔ مشرق اور مغرب میں تلاش کر و اسلام کے سواحق نہیں ملے گا۔ مجھے تعجب ہے کہ لوگ ایک پیسہ کی چیز لیتے ہیں تو اسے خوب دیکھ بھال کر لیتے ہیں مگر مذہب کے معاملہ میں توجہ نہیں کرتے ۔ اگر انسان تو ہمات میں گرفتار نہ ہو تو آج کل مذہب کے حُسن و قبح معلوم کرنے میں کوئی مشکل نہیں ۔ مقابلہ کر کے دیکھ لو اگر سچا مسلمان انسان ہو جاوے تو پاک ہو جاتا ہے دوسرے مذاہب میں یہ نہیں ۔ کیا ایک عیسائی پاک ہو سکتا ہے؟ جس کو کفارہ پر ایمان لاتے ہی عشاء ربانی میں شراب استعمال کرنی پڑتی ہے یا انجیل پر عمل کر کے وہ پاکیزگی میں ترقی کر سکتا ہے؟ جس کی رو سے منع نہیں کہ غیر مردوں کے ساتھ عورتیں بڑے بڑے جلسوں میں جیسا کہ ناچتی ہیں نہ ناچیں ۔ یہ تو قرآن ہی تعلیم دیتا ہے کہ تو نامحرم کو مت دیکھ۔ مجھے تعجب ہے کہ وہ کیا عقل ہے جو تاریکی کو روشنی سمجھتی ہے یہ امر دیگر ہے کہ کوئی سچا متبع نہ ہو لیکن جو وید یا انجیل کا سچا متبع ہے اس کو اس کی تعلیم پر عمل کر کے پورا نمونہ دکھانا ہوگا اب وید کے سچے متبع کی اگر تصویر کھینچیں تو ضروری ہوگا کہ وہ وایو اور اگنی کو خدا کہے اور اولاد نہ ہوتی ہو تو نیوگ کرا لے مگر جو قرآن پر عمل کرتا ہے اسے لازم ہے کہ وہ وحدہ لاشریک خدا کو مانے اور ہر قسم کی بے حیائی اور ناپاکی سے دور رہے اور فسق و فجور سے بچے ۔ عورتیں پاک دامن ہوں ۔ اب ان دونوں تصویروں پر غور کر لو اصل میں ایک شخص جس دین کی طرف منسوب ہوتا ہے وہ حقیقی نام اس وقت حاصل کرتا ہے جب اس اس کا سچا متبع : پا متبع ہو اور پابند مذہب ہو۔ آپ قرآن کا ایک جزو بھی پڑھیں گے تو معلوم ہو جاوے گا ۔ لے ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ء (دربار شام) بعد ادائے نماز مغرب اولاً چند آدمیوں نے بیعت کی۔ پھر میاں نبی بخش صاحب نمبر دار چک نمبر ۱۰۸ نے دعا کی درخواست کی کہ حضور کی محبت میرے دل میں بڑھے ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۱، ۱۲