ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 328

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۸ جلد سوم اب اس سے بڑھ کر پاکیزگی اور غیرت کا خون کیا ہو گا کہ ایک شخص کو جس کی بد قسمتی سے دو چار سال تک اولا د نہیں ہوئی کہہ دیا جاوے کہ تو اپنی بیوی کو دوسرے آدمی سے اولاد لینے کی خاطر ہم بستر کرالے یہ کیسی شرمناک بات ہے۔ یہاں قادیان میں ایک شخص موجود ہے اس سے جب اس نیوگ کی بابت پوچھا گیا تو اس نے یہی کہا کہ کیا مضائقہ ہے۔ اب کوئی عقل مند اس تعلیم کو کب گوارا کر سکتا ہے۔ میں نے پڑھا تھا کہ ایک بنگالی آریہ ہو گیا ایک برہمو نے جب اس پر نیوگ کی حقیقت کھولی تو اس نے ستیارتھ پرکاش کو پھٹکار کر مارا اور کہا کہ یہ مذہب قبول کرنے کے لائق نہیں۔ عیسائیوں نے مخلوق پر یہ ظلم کیا کہ کفارہ کی تعلیم دے کر اور شریعت کو لعنت کہہ کر نیکی کا دروازہ ہی بند کر دیا اور قوائے انسانی کی بے حرمتی کی۔ جب کہہ دیا کہ کوئی نیکی کر ہی نہیں سکتا۔ مگر اسلام مخلوق کے حقوق کو جائز اور مناسب مقام پر قائم کرتا ہے وہ ایسی تعلیم نہیں دیتا جو نیوگ کے پیرایہ میں دی گئی وہ مقام پر وہ انسانی قومی کی بے حرمتی نہیں کرتا اور انسان کو کفارہ کی تعلیم دے کر شست نہیں بنانا چاہتا اس نے شریعت کو لعنت نہیں بنایا بلکہ انسانی طاقتوں کے اندرا سے رکھا۔ اس طرح معاملہ تو بالکل صاف ہے اگر وہم نہ ہو اور قبول حق میں کوئی روک نہیں ہو سکتی اگر بزدلی نہ ہو۔ سائل ۔ ان مذاہب کی بابت تو مجھے پہلے سے اعتراض ہیں مگر اسلام کی کتابیں میں نے نہیں پڑھی ہیں ۔ فرمایا ۔ آپ قرآن شریف کو پڑھیں اس سے معلوم ہو جاوے گا کہ وہ خدا کی نسبت کیا تعلیم دیتا ہے اور مخلوق کی نسبت کیا ؟ ان دونوں تعلیموں کو اگر آدمی غور سے دیکھ لے تو حق کھل جاتا ہے۔ پھر مفتی صاحب نے میور کی ایک تصنیف سنائی جو اس نے مسلمانوں سے مناظرہ کرنے کے متعلق ہدایات پر لکھی ہے پھر چند لوگوں نے بیعت کی۔ پھر طالب حق نے عرض کیا کہ مجھے خواب آیا تھا کہ تو مسیح کے پاس جا اور اس سے پوچھ اگر وہ کہے کہ میں مسیح ہوں تو پھر وہ جو کہے مان لے۔ پوچھا گروہ وہ فرمایا۔ ہم تو سالہا سال سے اس دعوی کی اشاعت کر رہے ہیں اور خدا نے صد ہانشان اس کی تائید میں دکھائے ہیں جن کو خدا نے سعادت اور فہم دیا ہے وہ سمجھ لیتے ہیں جس کو ان سے حصہ نہیں وہ