ملفوظات (جلد 3) — Page 327
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۷ جلد سوم صفت سے انکار کیا گیا تو ایسا ناقص اور ادھورا خدا کب کسی کے ماننے میں آسکتا ہے۔ پھر انہوں نے خدا کی دوسری صفتوں کا بھی انکار کیا ہے مثلاً وہ مانتے ہیں کہ وہ کسی انسان کو کوئی چیز عطا نہیں کر سکتا جو کچھ کسی کو ملتا ہے اس کے عملوں کی ہی پاداش ملتی ہے۔ پھر انہیں یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ اگر گناہ نہ ہوتا تو دنیا کا کام نہ چل سکتا کیونکہ گائے، بکری، بھینس اور دوسری آرام دہ مخلوق نہ ہو سکتی ۔ اس قسم کا خدا انہوں نے مانا ہے گو یا خدا شناسی کے مقام سے یہ مذہب بھی گرا ہوا ہے۔ عیسائیت پھر ایک اور مذہب ہے جس کی اشاعت کے لئے کروڑ ہا روپیہ خرچ کیا جاتا ہے اور وہ ہا عیسائی مذہب ہے اس میں خدا شناسی کی اور بھی رڈی حالت ہے وہ اوّل تو سرے سے خدا ہی کو تین مانتے ہیں اور یہ ایسا مسئلہ ان کے نزدیک ہے کہ وہ سمجھ میں آہی نہیں سکتا اور پھر ان تین میں سے ایک عاجز انسان بھی ہے جو مریم کے پیٹ سے پیدا ہوا اور جس کی ساری عمر جیسا کہ انجیل سے معلوم ہوتا ہے ایک کرب اور اضطراب میں گذری۔ ماریں کھاتا رہا اور آخر یہودیوں نے اس کو پکڑ کر صلیب پر چڑھا دیا اب اگر خدا کا یہی نمونہ ہے تو کون اس پر ایمان لاسکتا ہے؟ مگر اسی خدا شناسی کے متعلق جو تعلیم اسلام نے دی ہے وہ ایسی صاف ہے کہ ہر عقل مند کو اسلام اس کے ماننے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اسلام بتاتا ہے کہ اللہ وہ ہے جو تمام صفات حمیدہ سے موصوف اور تمام نقصوں سے مبرا ہے وہ تمام اشیاء کا خالق اور مالک ہے وہ رحمان اور رحیم ہے۔ اسلام کسی مخلوق کو خدا یا خدا کا ہمسر نہیں بناتا۔ وہ خالق اور مخلوق میں فرق بتا تا ہے۔ اب اس اصل میں جب مقابلہ کیا جاوے تو کیسے صاف اور واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ کوئی مذہب اس اصل میں اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اسلام ہی سچا مذہب ہے۔ پھر مذہب کی دوسری جز و یا اصل یہ ہے کہ وہ مخلوق کے حقوق کیسے قائم کرتا ہے دوسری اصل اس اصل میں بھی دوسرے مذاہب کا مقابلہ کر کے دیکھولو ۔ آریہ مذہب نے تو ایسا ظلم کیا ہے کہ بجز بے غیرتی کے اور معلوم نہیں ہوتا۔ اس نے نیوگ کی تعلیم دی ہے کہ جس شخص کے گھر میں اولاد نہ ہو تو وہ اپنی عورت کو دوسرے شخص سے ہم بستر کراوے اور اولاد حاصل کر لے۔