ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 323

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۳ جلد سوم ایسے عجوبے دیکھ کر بھی ایمان میں قوت نہ آئے ۔ حقیقت یہی ہے کہ مسیح سے سلب امراض وغیرہ کے نشانات جو دیکھتے تھے وہ ایسے عام تھے کہ یہودی بھی کرتے تھے اور ایک تالاب پر بھی مریض جا کر اچھے ہو جایا کرتے تھے ۔ اس لئے ان باتوں نے معجزات مسیح کی کوئی عظمت ان کے دل میں پیدا نہ کی اور وہ نور یقین و معرفت جو گناہوں کو زائل کرتا ہے ان میں پیدا نہیں ہوا۔ اس لئے یہودا اسکر یوطی جو مسیح کا خزانچی تھا اور جس کے پاس ایک ہزار روپیہ کی تھیلی رہتی تھی اس میں سے چرا لیا کرتا تھا اور اسی لالچ نے اس کو تینش آور ہم لے کر گرفتار کرانے پر آمادہ کیا۔ مسیح کے پاس تو ایک ہزار کی تھیلی رہتی تھی اور تعجب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور سی ہے کہ باوجود یکہ ایک ہزار روپیہ پاس رہا تھا رہتا تھا پھر بھی کہتے ہیں کہ ابن آدم کو سر رکھنے کو جگہ نہیں ۔ آنحضرت کی یہ حالت تھی کہ آپ کے پاس جو کچھ ہوتا وہ سخاوت کر دیا کرتے تھے ایک بار آپ کے گھر میں ایک مہر تھی آپ نے اس کو لے کر تقسیم کر دیا۔ پادری جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیوں پر اعتراض کرتے ہیں مسیح کا شوق جہاد اپنے گھر میں گاہ نہیں کرتے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمکی لڑائیاں وو بالکل دفاعی تھیں ۔ مگر مسیح کو اس قدر شوق تھا کہ اس نے شاگردوں کو کہا کہ کپڑے بیچ کر بھی ہتھیار خریدو ۔ اصل میں مسیح کا لڑائیاں نہ کرنا ستر بی بی از بے چادری کا مصداق ہے اگر انہیں موقع ملتا تو وہ ہرگز تامل نہ کرتے بلکہ اس قسم کی تعلیم سے جو انہوں نے ہتھیاروں کے خریدنے کی دی صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کس قدر شوق تھا اور داؤد کے تخت کی وراثت کا خیال لگا ہوا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو آپ نے ان مخالفوں سے جنہوں نے سخت ایذائیں دی ہوئی تھیں اور جو اب واجب القتل ٹھہر چکے تھے پوچھا تمہارا میری نسبت کیا خیال ہے انہوں نے کہا کہ تو کریم ابنِ کریم ہے تو آپ نے فرمایا ۔ اچھا میں نے تم سب کو بخش دیا آپ کے اس رحم اور کرم نے ان پر ایسا اثر کیا کہ وہ سب مسلمان ہو گئے ۔ حضرت مسیح کو اپنے ایسے اخلاق کے اظہار کا موقع ہی نصیب نہیں ہوا۔ اور حواریوں کے لئے تو مسیح کا آنا ایک قسم کا ابتلا تھا کیونکہ ان کو کوئی لئے تومسیح تھا