ملفوظات (جلد 3) — Page 322
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۲ جلد سوم مصیبتوں کی انتہا آخر اس پر ہوئی کہ ان کو وطن چھوڑنا پڑا اور نبی کریم کے ساتھ ہجرت کرنی پڑی اور چھوڑنا پڑا اور نبی کریم کے ساتھ ہجرت کر جب خدا تعالیٰ کی نظر میں کفار کی شرارتیں حد سے تجاوز کر گئیں اور وہ قابل سز ا ٹھہر گئیں تو خدا تعالیٰ نے انہیں صحابہ کو مامور کیا کہ اس سرکش قوم کو سزا دیں۔ چنانچہ اس قوم کو جو مسجدوں میں دن رات اپنے خدا کی عبادت کرتی تھی اور جس کی تعداد بہت تھوڑی تھی ۔ جس کے پاس کوئی سامان جنگ نہ تھا مخالفوں کے حملوں کے روکنے کے واسطے میدان جنگ میں آنا پڑا۔ اسلامی جنگیں دفاعی تھیں ۔ پھر ان جنگوں میں یہ چند سو کی جماعت کئی کئی ہزار کے مقابلہ میں آئی اور ایسی بہادری اور وفاداری سے لڑی۔ اگر حواریوں کو اس قسم کا موقع پیش آتا تو ان میں سے ایک بھی آگے نہ ہوتا۔ ایک ذرا سے ابتلا پر وہ اپنے آقا کو چھوڑ کر الگ ہو گئے تو ایسے معرکوں میں ان کا ٹھہر نا ایک ناممکن بات ہے مگر اس ایماندار اور وفادار قوم نے اپنی شجاعت اور وفاداری کا پورا نمونہ دکھایا اور جو کچھ جو ہر انہوں نے دکھائے وہ سچے ایمان اور یقین کے نتائج تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو کہا کہ بڑھ کر دشمن پر حملہ کرو تو انہوں نے کیا شرمناک جواب دیا فاذْهَبْ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا فعِدُونَ (المائدة : (۲۵) تو اور تیرا رب جاؤ اور لڑو ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گئے ۔ صحابہ کی لائف میں ایسا کوئی موقع نہیں آیا بلکہ انہوں نے کہا کہ ہم ان میں سے نہیں ہیں جنہوں نے یہ کہا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ ربک ایسی قوت اور شجاعت اور وفاداری کا جوش کیوں کر پیدا ہو گیا تھا ؟ یہ سب ایمان اور یقین کا نتیجہ تھا جو آپ کی قوت قدسی اور تاثیر کا اثر تھا آپ نے ان کو ایمان سے بھر دیا تھا۔ مسیح کے حواریوں میں جو یہ ایمانی قوت پیدا نہیں ہوئی اس مسیح کے حواریوں کا ایمان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کو ان کے معجزات پر کوئی قوی ایمان اور بھروسہ نہ تھا۔ بلکہ اصل بات یہی ہے جیسا کہ بعض عیسائی مصنفوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ حواری دنیا دار اور سطحی خیال کے آدمی تھے انہیں یہ خیال تھا کہ یہ بادشاہ ہو جائے گا تو ہم کو عہدے ملیں گے۔ ان کا تعلق ایک لالچ کے رنگ میں مسیح کے ساتھ تھا اسی لیے وہ ایمانی قوت اور عرفانی مذاق ان میں پیدا نہ ہوا۔ اگر وہ معجزات مسیح کو دیکھتے کہ مردوں کو زندہ کرتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ