ملفوظات (جلد 3) — Page 321
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۱ جلد سوم پھر پکڑتا ہے۔ (۲) نادان انسان ذراسی خوشی پر تکبر سے باتیں کرتا ہے مگر آخر فتح اسی کی ہوتی ہے جس کے ساتھ خدا ہو۔ (۳) اسلام نے ہمیشہ نصرانیت کی سرکوبی کی ہے اور اب وہ وقت ہے کہ ان کے عقائد کی پردہ دری ہو گئی ہے اور اس کے بعد کسی کو حوصلہ نہ ہوگا کہ انسان کے بچہ کو خدا بنائے۔ صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے وفادار اور مطیع فرمان فضائل صحابہ رضی اللہ عنہم تھے کہ کسی نبی کے شاگردوں میں اس نظیر نہیں ملتی ہے اور خدا کے احکام پر ایسے قائم تھے کہ قرآن شریف ان کی تعریفوں سے بھرا پڑا ہے لکھا ہے کہ جب شراب کی محرمت کا حکم نافذ ہوا تو جس قدر شراب برتنوں میں تھی وہ گرادی گئی اور کہتے ہیں اس قدر شراب یہی کہ نالیاں یہ نکلیں ۔ اور پھر کسی سے ایسا فعل شنیع سرزد نہ ہوا اور وہ شراب کے پکے دشمن ہو گئے ۔ دیکھو یہ کیسا ثبات اور استقلال علی الاطاعة تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت جس وفاداری ، محبت اور ارادت اور جوش سے انہوں نے کی کبھی کسی نے نہیں کی ۔ موسیٰ علیہ السلام کی جماعت کے حالات پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کئی بار پتھراؤ کرنا چاہتی تھی اور حضرت عیسی علیہ السلام کے حواری تو ایسے کمزور و کرنا چاہتی ہیں اور حضرت میں علیہ السلام کچھ ھواری تو ایسے اور ضعیف الاعتقاد تھے کہ خود عیسائیوں کو تسلیم کرنا پڑا ہے اور حضرت مسیح آپ انجیل میں سست اعتقاد ان کا نام رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے استاد کے ساتھ سخت غداری کی اور بے وفائی کا نمونہ دکھایا کہ اس مصیبت کی گھڑی میں الگ ہو گئے ۔ ایک نے گرفتار کراد یا دوسرے نے لعنت بھیج کر انکار کر دیا۔ مگر صحابہ ایسے ارادت مند اور جاں نثار تھے کہ خود خدا تعالیٰ نے ان کی شہادت دی کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں جانوں تک دینے میں دریغ نہیں کیا۔ اور ہر صفت ایمان کی ان میں پائی جاتی ہے۔ عابد، زاہد سخی، بہادر اور وفاداریہ شرائط ایمان کی کسی دوسری قوم میں نہیں پائی جاتیں۔ جس قدر مصائب اور تکالیف صحابہ کو ابتدائے اسلام میں اٹھانی پڑیں ان کی نظیر بھی کسی اور قوم میں نہیں ملتی اس بہادر قوم نے ان مصیبتوں کو برداشت کرنا گوارا کیا لیکن اسلام کو نہیں چھوڑا۔ ان