ملفوظات (جلد 3) — Page 320
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۰ جلد سوم اسے یہودیوں وہ ایک ہی ہے یعنی مسیح موعود ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ ( الفاتحة : ٦ ، (الفاتحة : ۷۶) سے نیکوں کا بروز اور ضالین سے عیسائیوں کا بروز اور مغضوب کا بروز مراد ہے اور یہ عالم بروزی صفت میں پیدا کیا گیا ہے جیسے پہلے نیک یا بد گذرے ہیں ان کے رنگ اور صفات کے لوگ اب بھی ہیں۔ خدا تعالیٰ ان اخلاق اور صفات کو ضائع نہیں کرتا۔ ان کے رنگ میں اور آجاتے ہیں جب یہ امر ہے تو ہمیں اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ ابرار اور اختیار اپنے اپنے وقت پر ہوتے رہیں گے۔ اور یہ سلسلہ قیامت تک چلا جاوے گا جب یہ سلسلہ ختم ہو جاوے گا تو دنیا کا بھی خاتمہ ہے لیکن وہ موعود جس کے سپر د عظیم الشان کام ہے وہ ایک ہی ہے کیونکہ جس کا وہ بروز ہے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ بھی ایک ہی ہے۔ حضرت حکیم الامت نے مولوی ابو رحمت حسن صاحب کا ذکر سنایا کہ وہ بڑے سے خط لکھتے ہیں اور انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ أَحْصَنَتْ فَرَجَهَا اخلاص اس آیت پر مخالف اعتراض کرتے ہیں کہ یہ تہذیب کے خلاف ہے۔ فرمایا ۔ جو خدا تعالیٰ کو خالق سمجھتے ہیں تو کیا اس خلق کو لغو اور باطل قرار دیتے ہیں جب اس نے ان اعضا کو خلق کیا اس وقت تہذیب نہ تھی۔ خالق مانتے ہیں اور خلق پر اعتراض نہیں کرتے ہیں تو پھر اس ارشاد پر اعتراض کیوں؟ دیکھنا یہ ہے کہ زبان عرب میں اس لفظ کا استعمال ان کے عرف کے نزدیک کوئی خلاف تہذیب امر ہے جب نہیں تو دوسری زبان والوں کا حق نہیں کہ اپنے عرف کے لحاظ سے اسے خلاف تہذیب ٹھہرائیں۔ ہر سوسائٹی کے عرفی الفاظ اور مصطلحات الگ الگ ہیں ۔ ۲۹ اکتوبر ۱۹۰۲ء (صبح کی سیر) طاعون کے ذکر پر ضمناً فرمایا۔ دُرِّ حکمت (۱) خدا کے کام عجیب ہوتے ہیں لا ہیں لوگ مغرور ہو کر مطمئن ہو جاتے ہیں گا ہیں مگر خدا تعالیٰ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۸ تا ۱۰