ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 319

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۹ جلد سوم باوجود یکہ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدی کا اعتراف کیا ہے کہ میرے حق میں ہے یہ خدا کا کام تھا کہ مسیح کا دعوی تو اس میں بیان کیا مگر اس کو چھپایا اور زبان سے نکلوا دیا کہ وہ آئے گا۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ آج جو دعویٰ کیا گیا ہے براہین میں یہ سارا موجود ہے ایک لفظ بھی کم و بیش نہیں ہوا اگر اس میں الہامات نہ ہوتے تو اعتراض کی گنجائش ہوتی گو اس وقت بھی اعتراض فضول ہوتا کیونکہ وہ دعوی وحی سے نہیں تھا بلکہ اپنی ذاتی رائے تھی خدا تعالیٰ نے یہ اس لئے کیا تاظنون اور جعل سازی کے وہم دور ہوں ۔ دوسرا سوال ان کا اس امر پر تھا کہ آپ نے مسیح موعود کے قریشی ہونے کی حقیقت می جو وہ کھلکھا ہےکہ وہ قریش میں سے نہیں مسیح موعود اور پھر بعض جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ وہ قریشی ہے اس کی مطابقت کیوں کر ہو؟ وہ فرمایا ۔ مسیح موعود کو جس طرز پر ہم کہتے ہیں کہ وہ قریش میں سے نہیں وہ اس اعتبار سے نہیں جیسے قریش ہیں ۔ اہل فارس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش میں سے ٹھہرایا ہے اور میرا الہام بھی ہے سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ اسی نام سے مجھے اہل بیت میں داخل کیا ہے داخل کرنا اور بات ہے اور ہونا اور ۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیار ہے اہل فارس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ بیت اور قریش سے ٹھہرایا ہے اس لئے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلام سے قریش اور اہلِ بیت میں ہوں ۔ اس پر حضرت حکیم الامۃ نے يُسْلَبُ الْمُلْكُ مِنْ قُرَيْشٍ کا ذکر کر کے عرض کیا کہ حضور ہم قریشیوں سے ملک چھینا گیا مگر کسی نے ہماری قوم سے غور نہیں کی کہ کیوں ایسا ہوا ۔ تکبر کا اتنا بڑا خطرناک مرض ہوا۔ بڑا ہماری قوم میں ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ سید کی لڑکی کسی دوسرے کے گھر میں دینا کفر سمجھا گیا گیا ہے۔ اس پر میر صاحب نے کہا کہ ہم سے کوئی پوچھا کرتا ہے تو اس کو یہی جواب دیا کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کی ایک بہن تھی کوئی ہمیں بتائے کہ وہ کسی سید کو دی گئی تھی ۔ پھر بروز کے متعلق سلسلہ کلام یوں شروع ہوا۔ فرمایا۔ بروز کی حقیقت نیکوں کے اور بدوں کے بروز ہوتے ہیں۔ نیکوں کے بروز میں جو موعود ہے