ملفوظات (جلد 3) — Page 318
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۸ جلد سوم بیوی کہتی ہے تلاو ہے گلا و الله۔ اور پھر بیوی نے کہا کہ آپؐ ضعفاء کے مددگار ہیں آپ کو خا آپ کو خدا ضائع نہیں کرے گا پھر خدا تعالیٰ نے جب آپ پر امر نبوت کو واضح طور پر کھول دیا تو آپ نے تبلیغ اور اشاعت میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑا۔ مومن اس مقام کو جہاں ہوتا ہے نہیں چھوڑ تا جب تک خدا نہ چھڑائے۔ مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے ضمناً عرض کیا کہ تعجب کی بات ہے ایک قوم اور بھی تو ہے جس نے خدا کے اس راستباز اور صادق مسیح موعود کو تسلیم کیا ہے اور وہ اس پر ایمان لائی ہے اس کے سامنے کیا یہ باتیں نہیں ہیں ؟ ہیں مگر ان کو ان پر کوئی اعتراض نہیں معلوم ہوتا بلکہ ایمان بڑھتا اور اس کی سچائی پر ایک عرفانی رنگ کی دلیل پیدا ہوتی ہے حضرت اقدس نے سن کر فرمایا۔ بے شک یہ تو سچائی کی دلیل ہے نہ اعتراض۔ کیونکہ ماننا پڑے گا کہ تصنع سے یہ دعویٰ نہیں کیا گیا بلکہ خدا کے حکم اور وحی سے کیا گیا کیونکہ حضرت عیسیٰ کی آمد کے واقعات کو ہی تو اس میں بیان نہیں کیا بلکہ میرا نام عیسی رکھا اور لکھا کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله (الصف:۱۰) میرے حق میں ہے اور ادھر کوئی توجہ نہیں ۔ پس اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اگر میرا یہ کام ہوتا تو اس میں دوبارہ آنے کا اقرار نہ ہوتا۔ یہ اقرار ہی بتاتا ہے کہ یہ خدا کا کام ہے۔ اس پر مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے اس نکتہ سے خاص ذوق اٹھا کر عرض کیا کہ یہ بعینہ وہی بات ہے جو قرآن شریف کی حقانیت پر پیش کی جاتی ہے کہ اگر یہ آنحضرت کا اپنا کلام ہوتا تو اس میں زینب کہ کا قصہ نہ ہوتا۔ حضرت اقدس نے پھر اسی سلسلہ کلام میں فرمایا کہ ۲۵ اب کون سی نئی بات ہے جس کا ذکر براہین میں نہیں ہے۔ براہین کو طبع ہوئے پچیش برس کے قریب ہو گزرے ہیں اور اس وقت کے پیدا ہوئے بچے بھی اب بچوں کے باپ ہیں ۔ اس میں ساری باتیں درج ہیں بناوٹ کا مقابلہ اس طرح پر ہو سکتا ہے کیا۔ تیس برس پہلے ایک شخص ایسا منصوبہ کس طرح کر سکتا ہے جبکہ اسے اتنا بھی یقین نہیں کہ وہ اس قدر عرصہ تک زندہ رہے گا۔ پھر کیوں کر میں اپنا نام اتنے سال پہلے از خود عیسی رکھ سکتا تھا اور ان کاموں کو جو اس کے ساتھ منسوب تھے اپنے ساتھ منسوب کرتا۔ ہاں اس سے منصوبہ بے شک پایا جاتا اگر میں اس وقت لکھ دیتا کہ آنے والا میں ہی ہوں مگر اس وقت نہیں کہا