ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 314

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۴ جلد سوم اور ضعیف سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ چند آدمی شامل ہیں اب اس کا شمار ایک لاکھ سے بھی بڑھ گیا ہے اور کوئی دن نہیں جاتا کہ بذریعہ خطوط اور خود حاضر ہو کر لوگ اس سلسلہ میں داخل نہیں ہوتے ۔ یہ خدا کا کام ہے اور اس کی باتیں عجیب ہوتی ہیں۔ اے ۲۸ اکتوبر ۱۹۰۲ء (بوقت صبح کی سیر ) طاعون حسب معمول آپ حلقہ خدام میں سیر کو نکلے طاعون کا تذکرہ شروع ہوتے ہی فرمایا کہ قرآن شریف میں اس کو رِ جُزْ مِنَ السَّمَاءِ کہا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس پر انسانی ہاتھ نہیں پڑسکتا اور نہ زمینی تدابیر اس کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ ورنہ یہ عذاب آسمانی نہ رہے۔ طاعون جو اس کا نام رکھا ہے یہ مبالغہ کا صیغہ ہے جیسے فاروق ۔ جب طعن اور تکذیب حد سے گذر جاتی ہے تو پھر اس کی پاداش میں طاعون آتی ہے اور پھر صفائی کر کے ہی قہر الہی بس کرتا ہے۔ عرض کیا گیا کہ دَابَّةُ الْأَرْضِ اور رِجْرًا مِّنَ دابۃ الارض اور طاعون میں تعلق السلام میں کیا تعلق ہے؟ میں فرمایا۔ امر تو آسمانی ہی ہوتے ہیں یعنی اس طاعون کا امر آسمان سے آتا ہے اور وہ انسانی ہاتھوں سے بالاتر امر ہوتا ہے اور اس کا معالجہ بھی آسمان ہی سے آتا ہے۔ دابۃ الارض طاعون کو کہتے ہیں اس لئے کہ اس کے کیڑے تو زمینی ہی ہوتے ہیں۔ عرض کیا گیا کہ طاعون سے مرنا شہادت بتاتے ہیں تو پھر طاعونی موت شہادت ہوتی ہے عذاب کیوں کر ہوا ؟ جولوگ طاعون سے مرنا شہادت بتاتے ہیں ان کو معلوم نہیں کہ طاعونی موت تو عذاب الہی ہی ہے لیکن یہ جو کسی حدیث میں آیا ہے کہ اگر مومن ہو کر طاعون سے مر جاوے تو شہادت ہے۔ تو یہ اللہ تعالیٰ نے گویا مومن کی پردہ پوشی کی ہے۔ کثرت سے اگر مرنے لگیں تو شہادت نہ رہے گی پھر عذاب ہو الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۸،۷