ملفوظات (جلد 3) — Page 313
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۳ جلد سوم فرمایا۔ صادق مخالفوں کی شرارت اور ایذارسانی سے اگر مارا بھی جاتا ہے تو وہ شہید ہوتا ہے مگر وہ ناعاقبت اندیش طاعون کا شکار ہونے کو باقی رہ جاتے ہیں جو ان کی شامت اعمال سے آتی ہے۔ اذان ہورہی تھی آپ نے فرمایا۔ اذان ایک عمدہ شہادت ہے کیسی عمدہ شہادت ہے جب یہ ہوا ؟ یہ ہوا میں گونجتی ہوئی دلوں تک پہنچتی ہے تو اس کا عجیب اثر پڑتا ہے۔ دوسرے مذاہب کے جس قدر عبادت کے بلانے کے طریق ہیں وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے انسانی آواز کا مقابلہ دوسری مصنوعی آوازیں کب کر سکتی ہیں ؟ اپنی جماعت کے ذکر پر فرمایا کہ جماعت کے لیے غلبہ کا وعدہ اللہ تعالی نے اس جماعت کے لئے وعدہ فرمایا ہے و جَاعِلٌ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ اور خدا کے وعدے سچے ہیں ۔ ابھی تو تخم ریزی ہو رہی ہے ہمارے مخالف کیا چاہتے ہیں؟ اور خدا تعالیٰ کا کیا منشا ہے یہ تو ان کو ابھی معلوم ہو سکتا ہے اگر وہ غور کریں کہ وہ اپنے ہر قسم کے منصوبوں اور چالوں میں نا کام اور نامراد رہتے ہیں۔ اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف کیا چاہتے تھے؟ ان کا تو یہی مدعا اور مقصد تھا کہ اس جماعت کو نابود کر دیں مگر دیکھو انجام کیا ہوا؟ اگر اس اعجاز کامیابی کو جو ہمارے نبی کو حاصل ہوئی ابو جہل اس وقت دیکھے تو اس کو پتہ لگے ۔ کس قدر فوق العادة ترقی مخالفوں کی مخالفت اور شرارت کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ نے کر کے دکھائی ۔ یہی معاملہ یہاں ہے اگر یہ مخالف نہ ہوتے تو ایسی اعجازی ترقی یہاں بھی نہ ہوتی یعنی اس ترقی میں اعجازی رنگ نہ رہتا کیونکہ اعجاز تو مقابلہ اور مخالفت سے ہی چمکتا ہے۔ ایک طرف تو ہمارے مخالفوں کی یہ کوششیں ہیں کہ وہ ہم کو نابود کر دیں۔ ہمارا اسلام تک نہیں لیتے اور غائبانہ ذکر بھی نفرت سے کرتے ہیں دوسری طرف اللہ تعالیٰ حیرت انگیز طریق پر اس جماعت کو بڑھا رہا ہے یہ معجزہ نہیں تو کیا ہے؟ کیا یہ ہمارا فعل ہے یا ہماری جماعت کا؟ نہیں یہ خدا تعالیٰ کا ایک فعل ہے جس کی تہ اور سر کو کوئی نہیں جان سکتا ۔ اب ان کو کس قدر تعجب ہوتا ہو گا کہ چند سال پہلے جس جماعت کو بالکل کمزور اور ذلیل