ملفوظات (جلد 3) — Page 315
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۵ جلد سوم جائے گا۔ شہادت کا حکم شاذ کے اندر ہے کثرت ہمیشہ کافروں پر ہوتی ہے۔ اگر یہ ایسی ہی شہادت اور برکت دت اور برکت والی چیز تھی تو اس کا نام رجز مِنَ السَّمَاءِ نہ رکھا جاتا اور پھر کثرت سے مومن مرتے اور انبیاء مبتلا ہوتے مگر کیا کوئی کسی نبی کا نام لے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ پس یا د رکھو کہ اگر کوئی شاذ مومن اس سے مر جاوے تو اللہ تعالیٰ اپنی ستاری سے اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے اور اس کے لئے کہا گیا کہ وہ شہادت کی موت مرتا ہے ماسوا اس کے میں نے بارہا کہا ہے کہ اگر کوئی حدیث قرآن شریف کے متعارض ہو اور اس کی تاویل قرآن کے موافق نہ ہو تو اسے چھوڑ دینا چاہیے حکم ہمیشہ کثرت پر ہوتا ہے شاذ تو معدوم کا حکم رکھتا ہے۔ ( در بار شام) بعد ادائے نماز مغرب اول چند آدمیوں نے بیعت کی۔ پھر مفتی محمد صادق صاحب نے ڈوئی کے اخبار سے چند پیرا گراف سنائے ۔ فرمایا۔ یہ لغو اور کفر تو ہوتا ہے مگر اس سے تحریک ہو جاتی ہے اور تحریک بچہ کے بازیچہ سے بھی ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب نے منشی رحیم بخش یہی اعتراض میری سچائی کا گواہ ہے عرضی نویس کا خط پیش کیا جس میں دو سوال لکھے تھے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ براہین میں مسیح کی آمد ثانی کا اقرار تھا کہ وہی مسیح آئے گا پھر اس کے خلاف دعوی کیا گیا یہ تزلزل بیانی قابل اعتبار نہیں ہوتی ۔ فرمایا۔ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہم نے ایسا لکھا ہے اور ہمیں یہ بھی دعویٰ نہیں ہیں ہے کہ ہم عالم الغیب ہیں ایسا دعویٰ کرنا ہمارے نزدیک کفر ہے اصل بات یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نہ آوے ہم کسی امر کو جو مسلمانوں میں مروج ہو چھوڑ نہیں سکتے ۔ براہین احمدیہ کے وقت اس مسئلہ کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہمیں توجہ نہیں دلائی۔ پھر جبکہ ایک چرخہ کاتنے والی بڑھیا بھی یہی عقیدہ رکھتی تھی اور جانتی تھی کہ مسیح دوبارہ آئے گا تو ہم اس کو کیسے چھوڑ سکتے تھے