ملفوظات (جلد 3) — Page 312
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۲ جلد سوم ما ہوئے تھے تو سید و مولی شہ نشین پر اجلاس فرما ہے پراج مسیح کا جنازہ بعد ادائے نماز مغرب جب ہمارے سیدوم ڈاکٹر سید عبدالستار صاحب رعیہ نے عرض کی کہ ایک شخص منشی رحیم بخش عرضی نویس بڑا سخت مخالف تھا مگر اب تحفہ گولڑویہ پڑھ کر اس نے مسیح کی موت کا تو اعتراف کر لیا ہے اور یہ بھی مجھ سے کہا کہ مسیح کا جنازہ پڑھیں ۔ میں نے تو یہی کہا کہ بعد استصواب واستمزاج حضرت اقدس جواب دوں گا۔ فرمایا۔ جنازہ میت کے لئے دعا ہی ہے کچھ حرج نہیں ۔ وہ پڑھ لیں۔ ہمارے ناظرین منشی شاہدین صاحب سٹیشن ماسٹر مردان سے خوب واقف الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ہیں وہ اس سلسہ میں قابل قدر حض ہیں تالی اور اشاعت کا سا شوق رکھتے ہیں جہاں جاتے ہیں ایک جماعت ضرور بنا دیتے ہیں۔ الحکم کے خاص معاونین میں سے ہیں بہر حال ناظرین یہ بھی جانتے ہیں کہ مردان میں بعض شریر النفس لوگوں کی طرف سے ان کو سخت ایذائیں دی گئیں اور آخران کی شرارت سے ان کی تبدیلی ہوگئی ۔ حضرت اقدس کے حضور جب ان کی تکالیف اور مصائب کا ذکر ہوا تھا تو آپ نے صبر اور استقامت کی تعلیم دی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر خدا تعالیٰ نے اظہار حق کیا۔ افسران بالا دست نے بدوں کسی قسم کی تحریک کے جو منشی صاحب کی طرف سے کی جاتی از خود اس مقدمہ کی تفتیش کی اور انجام کار منشی شاہدین صاحب ترقی پر گوجر خان ایک عمدہ سٹیشن پر تبدیل ہوئے اور ان کے متعلق بہت ہی اطمینان بخش رائے افسروں نے قائم کی ۔ غرض جب منشی صاحب کی اس کامیابی کا ذکر ہوا فرمایا۔ عاقبت متقی کے لئے ہے۔ برگردن او بماند و بر ما بگذشت والا معاملہ ہو گیا ۔ خدا تعالیٰ نیک نیت حاکم کو اصلیت سمجھا دیتا ہے اگر اصلیت نہ سمجھیں تو پھر اندھیر پیدا ہو۔ بغداد وغیرہ کی تباہی کے ذکر پر جو ہلا کونے کی فرمایا کہ بغداد کی تباہی بدکاری حد سے بڑھ گئی تھی۔ آخر خدا تعالیٰ نے اس طرح پر انکو تباہ کیا لکھا پر ہے کہ آسمان سے آواز آتی تھی ۔ أَيُّهَا الْكُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجَّارَ -