ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 24

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴ جلد سوم پیدا ہوتا ہے اور اس پر ایک ٹھوکر لگتی ہے۔ اس وقت خدا تعالی تمثیلی طور پر بعض افراد کو ان کے عیوب اُن پر ظاہر کر دیتا ہے اور کبھی اس فعل کا علم مامور اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے انسان دونوں کو ہوتا ہے اور کبھی ایک ہی کو۔ ( ہم اس عقدہ کو حل کرنے کے لیے ذرا مثال کے طور پر سمجھا دیتے ہیں بہت سے لوگ ایسے ہوں گے بلکہ قریباً ہر ایک شخص پر اس قسم کے واقعات گذرے ہوں گے کہ جب کبھی وہ کسی گناہ کی حالت میں گرفتار ہونے کو ہوا ہے تو رویا میں حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام ہ الصلوٰۃ والسلام کی اُس نے زیارت کی اور اس گناہ کی حالت - سے بچ گیا۔ اس قسم کے تمثلات وہ ہوتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ مامور کا رسول ہو کر اپنا فیض پہنچاتا ہے۔ ایڈیٹر ) بلا تاریخ ۱۹۰۲ء قدر اور جبر پر بڑی بڑی بحثیں ہوئی ہیں مگر تعجب کی بات ہے کہ لوگ اس پر کیوں قضا اور دعا بحث کرتے ہیں۔ میرا مذہب یہ ہے کہ قرونِ ثلاثہ کے بعد ہی اس قہ اس قسم کی بحثوں کی بنیاد پڑی ہے ورنہ انسانیت یہ چاہتی تھی کہ ان پر توجہ نہ کی جاوے۔ جب روحانیت کم ہو گئی تو اس قسم کی بحثوں کا بھی آغاز ہو گیا۔ جس شخص کا س کا یہ ایمان نہ ہو کہ إِنَّمَا أَمْرُةَ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (ليس : ۸۳) میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اُس نے خدا تعالیٰ کو نہیں پہچانا اور ایسا ہی اس شخص نے بھی شناخت نہیں کیا جو اس کو عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ اور حی و قیوم کہ دوسروں کی حیات و قیام اسی سے ہے اور وہ مدبّر بالا رادہ ہے مدبر بالطبع نہیں مانتا جو فلاسفروں کا عقیدہ ہے۔ غرض ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں ۔ یہ بات قریب بہ کفر ہو جاتی ہے اگر یہ تسلیم کریں کہ کوئی حرکت یا سکون یا ظلمت یا نور ہدوں خدا کے ارادے کے ہو جاتا ہے اس پر ثبوت اول قانون قدرت ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے دو آنکھیں ، دوکان ایک ناک دیئے ہیں۔ اتنے ہی اعضا لے کر بچہ پیدا ہوتا ہے۔ پھر اسی طرح عمر ہے الحکم جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ء صفحہ ۷