ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 23

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳ جلد سوم ہو جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس آیت کے مصداق ہے عَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَ هُوَ خَيْرٌ لكم (البقرة: ٢١٧) ما مور من اللہ جب آتا ہے تو اس کی فطرت میں سچی ہمدردی مامور من اللہ کی سچی ہمدردی رکھی جاتی ہے اور یہ ہمدردی عوام سے بھی ہوتی ہے اور جماعت سے بھی ۔ اس ہمدردی میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑھے ہوئے تھے۔ اس لیے کہ آپ گل دنیا کے لیے مامور ہو کر آئے تھے اور آپ سے پہلے جس قدر نبی آئے وہ مختص القوم اور مختص الزمان کے طور پر تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کل دنیا اور ہمیشہ کے لیے نبی تھے اس لیے آپ کی ہمدردی بھی کامل ہمدردی تھی ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ الَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ ( الشعرآء : ۴ ) اس کے ایک تو یہ معنے ہیں کہ کیا تو ان کے مومن نہ ہونے کی فکر میں ! میں اپنی جان دے دے گا ۔ اس آیت ۔ یت سے اس درد اور فکر کا پتہ لگ سکتا ہے جو آپ کو دنیا کی تبہ حالت دیکھ کر ہوتا تھا کہ وہ مومن بن جاوے۔ یہ تو آپ کی عام ہمدردی کے لیے ہے اور یہ معنے بھی اس آیت کے ہیں کہ مومن کو مومن بنانے کی فکر میں تو اپنی جان دے دے گا یعنی ایمان کو کامل بنانے میں ۔ اسی لیے دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ ( النِّسَاءِ : ۱۳۷) بظاہر تو یہ تحصیل حاصل معلوم ہوتی ہو گی لیکن جب حقیقت حال پر غور کی جاوے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ کئی مراتب ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ تکمیل چاہتا ہے۔ کہ اس غرض مامور کی ہمدردی مخلوق کے ساتھ اس درجہ کی ہوتی ہے کہ وہ بہت جلد اس سے متاثر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اُس کے ماموروں کے درمیان دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں ۔ رسول مامور مامور تو اللہ تعالیٰ کا رسول ہوتا ہی ہے لیکن بعض مقامات پر اللہ تعالیٰ بھی مامور کا رسول ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک باریک بھید ہے جس کو ہر شخص جلدی نہیں سمجھ سکتا۔ یہ صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مامور ا پنی جماعت کو اپنی منشا کے موافق نہیں دیکھتا تو اس کے دل میں ایک درد