ملفوظات (جلد 3) — Page 286
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۶ جلد سوم چوڑھوں میں چند آدمی مر گئے ہیں یہ ایں وجہ کہ ان ایام میں انہوں نے کئی ہلاک شدہ بھینسیں کھائی تھیں ان کا ذکر ہوتے ہوتے آخر طاعون کا تذکرہ ہو پڑا فرمایا۔ ایک بار مجھے یہ الہام ہوا تھا کہ خدا قادیان میں نازل ہوگا اپنے خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو وعدہ کے موافق اور پھر یہ ھی تھا۔ اِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصلحت “ فرمایا۔ - طاعون کے خوف ناک نتائج یہ بھی ہیں کہ آخر کو جنگل بنا دیتی ہے۔ اس پر حکیم نور الدین صاحب نے کہا کہ حضور میں نے پڑھا ہے یہ جونئی آبادی بار میں ہوئی ہے اس میں پرانی آبادیوں ۔ بادیوں کے نشانات ملے ت ملے ہیں اور یہ لکھا ہے کہ یہ قطعات آباد تھے اور طاعون سے ہلاک ہوئے تھے۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ خواہ موذی طبع لوگ ہزاروں ہی مر جاویں مگر میرا جی یہ چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو اور دنیا کو خدا کا پتہ لگے اور ثبوت ملے کہ کوئی قادر خدا بھی ہے اس وقت دہریت اور الحاد بہت پھیلا ہوا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے بے پروائی ظاہر کی جاتی ہے اور جن لوگوں نے بظاہر خدا تعالیٰ کا اقرار بھی کیا ہے انہوں نے یا تو خطر ناک شرک کیا ہے جیسے عیسائی اور دوسرے بت پرست مشرک اور پھر جنہوں نے بظاہر توحید کا اقرار بھی کیا ہے جیسے مسلمان انہوں نے بھی دراصل شرک اختیار کر رکھا ہے اور مسیح کو خدا کی صفات سے متصف ٹھہرا رکھا ہے ۔ علاوہ بریں خدا تعالیٰ کی حکومت کے نشان ان کے اعمال سے ثابت نہیں ہوتے۔ اعمال میں سستی اور بیبا کی اور دلیری پائی جاتی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا خوف دلوں پر نہیں رہا۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس بیبا کی کے دور کرنے میں بے شک ہزاروں ظالم طبع ہلاک ہوں تا کہ وہ دوسروں کے لئے عبرت ہو اور وہ خدا کی قدرتوں اور طاقتوں پر ایمان لانے والے ہوں۔ دیہات کے لوگ تو جنگل کے وحشیوں کی طرح ہیں مگر شہروں میں جو تعلیم یافتہ ہیں ان کی حالت بہت ہی نا گفتہ بہ ہو رہی ہے میں دیکھتا ہوں کہ