ملفوظات (جلد 3) — Page 287
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۷ جلد سوم مسلمانوں میں بھی اعلائے کلمتہ اللہ اور اپنے اعمال کی اصلاح اور تبدیلی کا جوش نہیں ہے باپ دادا سے لا اله الا الله من لیا اسی کو کافی سمجھا اعمال کی پروا نہیں ۔ یہ جو الہام ہو چکا ہے انَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ اگر منتشر کرنے کا قانون منسوخ نہ ہوتا تو اس مفہوم کو اس الہام میں داخل سمجھا جا سکتا مگر اب جب کہ سب جگہ قانون منسوخ ہو گیا ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشا یہی ہے جیسا کہ دوسرے الہام لَوْلَا الْإِكْرَامُ لَهَلَكَ الْمُقَامُ سے پایا جاتا ہے۔ اس میں ایک شوکت بھی ہے اور چشم نمائی ہے جیسے ایک مجرم کو حج ۳ سال کی سزا دے اور ساتھ ہی یہ کہہ دے کہ اصل میں ۱۴ سال کی قید کی سزا کے لائق تھا مگر عدالت رحم کر کے ۳ سال کی سزا دیتی ہے۔ اسی طرح پر یہ الہام ظاہر کرتا ہے کہ دراصل یہ جگہ بھی ایسی ہی تھی کہ ہلاک کی جاتی مگر خدا تعالیٰ اپنے اس سلسلہ کا اکرام ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اسی اکرام کی وجہ سے اسے ہلاکت سے بچالیا اور اس طرح پر یہ نشان ٹھہرا۔ میری نصیحت اس وقت جماعت کے اعت کو یہ ہے کہ یہ دن بڑے سخت اور ہولناک جماعت کو نصیحت ہیں اس لئے جہاں تک ہو سکے اپنے دلوں کو اور آنکھوں کو برے جذبات سے روکے اور اپنے اعمال اور چال چلن میں خاص تبدیلی کریں۔ یہ وقت خاص تبدیلی کا ہے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگنے کا ہے پس اس وقت خدا سے سچا تعلق پیدا کرو۔ میں نے سنا ہے کہ ایک شخص عین شادی کے دن طاعون سے مر گیا۔ دنیا کی بے ثباتی کے لئے یہ کیسی عبرت بخش مثال ہے اگر دانش مند غور کرے تو ایک طرح سے یہ دن بڑے عجیب ہیں ان پر نظر کرنے سے موت یاد آتی ہے اور خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین پیدا ہوتا ہے اور یقین ہی ایک ایسی شے ہے جو اعلیٰ درجہ کی لذت اور سرور صادق الیقین کو بخشتا ہے وہ کسی اور کو میسر نہیں آسکتے ۔ خدا شناسی کے مسئلہ پر اس وقت ہزاروں قسم کے حجاب اور گردو غبار ہیں ۔ اور وہ یقین جو لذت بخش نتائج اپنے ساتھ رکھتا ہے وہ نہیں رہا اور جو دنیا کے تعلقات میں پیدا ہونے والے رنج اور غم کو دور کرتا ہے اس وقت نہیں بلکہ یہ حالت ہو رہی ہے کہ اکسیر مل جاوے تو