ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 285

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۵ جلد سوم چسپاں ہوتی ہیں ۔ قیمتی پیشگوئیاں آمد ثانی پر تھیں وہ سارے کا سارا تھیلا ہم نے چھین لیا۔ آمد اول میں تو ساری ذلت اور مار کھانے والی پیشگوئیاں ہیں اور جلال اور عظمت والی تو آمدثانی پر تھیں جو کہ ہم کو ملیں۔ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ (الزخرف : (٨٦) پر حضرت اقدس نے فرمایا۔ ایک تفسیری نکتہ یہ بات واقعی ہے اور قرآن کریم سے بھی ثابت ہے کہ ساعت سے اس جگہ مراد یہودیوں کی تباہی کا زمانہ ہے وہ وہی زمانہ تھا اور جس ساعت کے یہ لوگ منتظر ہیں اس کا تو ابھی تک کہیں پتہ بھی نہیں ہے ایک پہلو سے اول مسیح کے وقت یہودیوں نے بدبختی لے لی اور دوسرے وقت میں نصاری نے بدبختی کا حصہ لے لیا مسلمانوں نے بھی پوری مشابہت یہود سے کر لی ۔ اگر ان کی سلطنت یا اختیار ہوتا تو ہمارے ساتھ بھی مسیح والا معاملہ کرتے ۔ کرلی ۔ جس طرح کھا نگر بھینس کا دودھ نکالنا بہت مشکل ہے اسی طرح نشانوں کے ظہور کا وقت سے خدا کے نشان بھی سخت تکلیف کی حالت میں اترا کرتے ہیں ۔ جیسے حضرت موسی کو بنی اسرائیل نے کہا تھا اِنَّا لَمُدْرَكُونَ (الشعرآء : ۶۲) وہ ایسا سخت مشکل کا وقت تھا کہ آگے سے بھی اور پیچھے سے بھی ان کو موت ہی موت نظر آتی تھی سامنے سمندر اور پیچھے فرعون کا لشکر ۔ اس وقت موسی نے جواب دیا كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي (الشعر آء : ۲۳ ) پس ایسی ضرورتوں اور ابتلا کے اوقات میں نشان ظاہر ہوا کرتے ہیں جبکہ ایک قسم کی جان کندنی پیش آجاتی ہے چونکہ خدا کا نام غیب ہے اس لئے جب نہایت ہی اشد ضرورت آبنتی ہے تو اُمور غیبیہ ظاہر ہوا کرتے ہیں۔ لیکھرام کے قتل کی طرز اور وضع اور وقت اور تاریخ وغیرہ سب کچھ کس صفائی سے بتلایا گیا۔ مگر بے ایمانوں کے واسطے تھوڑا سا شبہ اور ایمان والوں کے واسطے تھوڑی سی بات ایمان کے لئے باقی رکھ ساشبہ لی تھی۔ بے ایمانی کی بات ہی ہوئی جو کہا کہ شاید ان کی جماعت میں سے کسی نے اس کو قتل کر دیا ہو۔ (بعد نماز مغرب ) بعد ادائے نماز مغرب حضور علیہ الصلوۃ والسلام حسب معمول اجلاس فرما ہوئے تو قادیان میں جو