ملفوظات (جلد 3) — Page 265
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۵ جلد سوم ہم دواؤں کی تاثیرات سے منکر نہیں ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ ادھر تم نے ٹیکہ نہ کرایا اور اگر چند ایک لوگ مبتلائے طاعون ہوئے تو وہ لوگ کس قدر ہنسیں گے جنہوں نے ٹیکہ کرایا ہوگا۔ مگر بڑا بے وقوف ہے جو کہ اس دوا کو بھی نہ پیوے اور پھر اس دوا سے بھی محروم رہے کہ اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ٹھیک نہ ہو تو وہ گویا دونوں طرف سے محروم رہا۔ پھر اگر ہماری جماعت میں سے کسی کو طاعون ہوگا تو اس کا اثر اس کے ایمان پر بھی پڑے گا اور وہ خیال کرے گا کہ میں تو بیعت میں تھا مجھے کیوں طاعون ہوئی لیکن خدا کسی کی ظاہری صورت کو نہیں دیکھتا وہ اس منشا کو دیکھتا ہے جو انسان نے اپنے دل میں بنایا ہوا ہے۔ خدا کے ساتھ صفائی ایک مشکل کام ہے طاعون اگر چہ مومن کے واسطے ایک خوشی ہے مگر چونکہ مخالف کہتے ہیں کہ یہ تمہاری شامت سے آئی ہے اس لئے اگر یہ جماعت اسی طرح تباہ ہو جس طرح ا الحکم میں ہے۔ ”دیکھو ٹیکے والے اپنی جگہ اسباب پر پنجہ مارتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بچ جاویں گے اور کچھ تعجب نہیں کہ اس سے فائدہ بھی اٹھاویں لیکن وہ جو ہمارے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اگر وہ اس دوا کو جو ہم پیش کرتے ہیں اور اس ٹیکہ کو جو خدا نے ان کے لیے طیار کیا ہے استعمال نہیں کرتے تو افسوس ہے کہ وہ اس ٹیکہ سے بھی جو گورنمنٹ نے تیار کیا ہے محروم رہے اس سے تو بہتر تھا کہ وہ ٹیکہ ہی کرا لیتے ۔ کیونکہ اگر وہ پورا ایمان اور اس کے موافق عمل نہیں رکھتے تو خدا تو ان کی پروانہ کرے گا اور پھر ان کی موت حسرت کی موت ہو گی اور اس سے ان کے ایمان کو اور بھی صدمہ پہنچے گا۔ خدا تعالیٰ صورت کو نہیں دیکھتا وہ تو یہ دیکھتا ہے کہ آیا اس نے میرے منشا کے موافق اپنے آپ کو بنایا ہے یا نہیں؟ اگو کوئی طاعون سے مرے اور اسے کہا جاوے کہ وہ جماعت میں تھا تو یہ ایک دھوکا اور مغالطہ ہوگا وہ حقیقت میں اس سے الگ تھا ورنہ ایک موت تو دوسری موت کا کفارہ ہوتی ہے اگر اس کے اپنے جذبات اور نفسانی خواہشوں پر موت آچکی تھی اور وہ دنیا کے فریبوں اور مکاریوں سے الگ ہو چکا تھا تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ ہلاک کیا جاتا ہے اس کا ہلاک کیا جانا ہی اس امر کی دلیل ٹھہرے گی کہ وہ اس سے الگ تھا۔ طاعون سے مرنا بے شک شہید ہونا ہے مگر اس وقت خدا نے اس کو ایک نشان ٹھہرایا ہے اس لیے اگر طاعون سے جماعت تباہ ہو جاوے تو پھر یہ نتیجہ نکلے گا کہ یہ ہماری شامت سے آئی ہے جیسا کہ بعض ظالم طبع لوگوں نے مجھے اس قسم کے خطوط لکھے۔ مگر انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ کس کی شامت سے اور کن کے لیے آئی ہے مگر جماعت الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۹) کا فرض ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرے۔“