ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 266

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۶ جلد سوم دوسرے تباہ ہوتے ہیں تو پھر تو ان کو خوب ثبوت مل جائے گا کہ واقعی ہماری شامت سے آئی ہے اور اگر ٹیکہ لگوانے والے بھی ہلاک ہوں اور تم بھی ہلاک ہو پھر بھی تمیز کوئی نہیں رہتی ۔ اس لئے تبدیلیاں پیدا کرنی چاہئیں ۔ کشتی نوح میں میں نے بہت کچھ کہنا تھا مگر انشاء اللہ پھر کسی دوسرے موقع پر لکھا جائے گا ۔ اتنا لکھا بھی کافی ہے۔ مجھے یہ فکر ہے کہ وہ مثل نہ ہو کے نقصان ما یہ و دیگر شماتت ہمسایہ ۔ ایک تو مریں اور پھر جھوٹے کہلا کر مریں۔ اگر ایک طرف مخالفوں کی ہزار موت ہو تو نام نہ لیویں گے اور ہمارا ایک بھی مرے تو ڈھول بجاویں گے۔ خدا نے صورت تو نہیں دیکھنی اس نے دل دیکھنا ہے۔ مگر لوگ تو ظاہر دیکھتے ہیں اور جس شخص کا نام رجسٹر بیعت میں ہے اسے جماعت میں خیال کرتے ہیں وہ تو رجسٹر میں صرف نام دیکھیں گے لیکن اگر خدا کے رجسٹر میں نام نہیں ہے تو ہم کیا کر سکیں گے۔ خدا نے ترقی کا موقع خوب دیا ہے نفس کو لگام دینے کے لیے اس سے بڑھ کر اور کونسا وقت ہو سکتا ہے اس وقت سے غافل نہ رہنا چاہیے اور محنت کرنی چاہیے۔ وہ انسان جو آپ محنت کرتا ہے اسے سالک کہتے ہیں اور سالک اور مجذوب کی تعریف جسے خود خدا دیوے وہ مجذوب ہوتا ہے۔ اور جو و یا ر ہے تو اسے کوئی کیا کرے اِنَّ اللهَ لَا يُخَيَّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ - لا بات سن کر صرف کان تک رکھنے سے فائدہ نہیں ہوتا جب تک دل کو خبر نہ ہو انسان ایک دو کاموں سے سمجھ لیتا ہے کہ میں نے خدا کو راضی کر لیا حالانکہ یہ بات نہیں ہوتی ۔ اطاعت ایک بڑا مشکل امر ہے صحابہ کرام کی اطاعت اطاعت تھی کہ اطاعت کی حقیقت جب ایک دفعہ مال کی ضرورت پڑی تو حضرت عمر اپنے مال کا نصف لے ل الحکم میں ہے۔ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخَيَّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ خدا تعالیٰ نے میرے الہام میں جو طاعون کے متعلق ہے یہ آیت رکھی ہے جو اس امر کی طرف رہبری کرتی ہے کہ تبدیلی کی بڑی ضرورت ہے یہ بڑی ہی خوفناک بات ہے ہے کہ انسان سن کر کانوں تک ہی رہنے دے اور دل تک نہ پہنچے۔ بڑا ہی ظالم وہ شخص ہے جو ظاہری حالت پر خوش الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۹) ہو جاتا ہے اور سچی اطاعت کی حالت نہیں دکھاتا ۔