ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 264

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۴ جلد سوم حفاظت سے حصہ لینے والا وہ شخص ہے جو اپنے دل میں سمجھ لے کہ میں نے تبدیلی پیدا کر لی ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرح ہو جاوے۔ جس طرح انہوں نے ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے تھے۔ لے عذاب شدید آنے والا ہے فرق سے فرق ہوتا ہے۔ اگر بیعت کے وقت وعدہ اور ہے اور پھر عمل اور ہے تو دیکھو کتنا فرق ہے۔ اگر تم خدا سے فرق رکھو گے تو وہ تم سے فرق رکھے گا اگر ہماری جماعت سے سو آدمی مر جاویں تو ہم یہی کہیں گے کہ ان کے دلوں میں فرق تھا کیونکہ ہمیں کسی کے اندرونہ کا کیا حال معلوم ہے عیسی اور موسیٰ کے وقت کیا ہوا۔ ہے بقیہ حاشیہ ) مچاتے ہیں اور ہماری مخالفت میں ہر پہلو سے زور لگاتے اسے زور لگاتے ہیں۔ مگر وہ یاد رکھیں کہ خدا کے کام با برکت ہوتے ہیں ۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ اس برکت سے حصہ لینے کے لئے ہم اپنی اصلاح اور تبدیلی کریں اس لئے تم اپنے ایمانوں اور اعمال کا محاسبہ کرو کہ کیا ایسی تبدیلی اور صفائی کر لی ہے کہ تمہارا دل خدا تعالیٰ کا عرش ہو جاوے اور تم اس الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۹۰۸) کی حفاظت کے سایہ میں آجاؤ۔“ لے اسی ذکر میں الحکم میں مندرجہ ذیل الفاظ ہیں۔ د میں تمہیں بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں کہ تم ایسے پاک صاف ہو جاؤ جیسے صحابہؓ نے اپنی تبدیلی کی انہوں نے دنیا کو بالکل چھوڑ دیا گو یا ٹاٹ کے کپڑے پہن لیے اسی طرح تم اپنی تبدیلی کرو۔“ الحکم میں ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۹،۸) خدا تعالیٰ کا شدید عذاب آنے والا ہے اور وہ رو بد نیا نہ رہو بلکہ خدا ہی کی طرف متوجہ ہو جاؤ خبیث اور طبیب میں ایک امتیاز کرنے والا ہے۔ وہ تمہیں فرقان عطا کرے گا جب دیکھے گا کہ تمہارے دلوں میں کسی قسم کا فرق باقی نہیں رہا۔ اگر کوئی بیعت میں تو دیکھے میں اقرار کرتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا مگر عمل سے وہ اس کی سچائی اور وفاء عہد ظاہر نہیں کرتا تو خدا کو اس کی کیا پروا مگرعمل وہ اور خدا تو ہے۔ اگر اس طرح پر ایک نہیں سو بھی مر جاویں تو ہم یہی کہیں گے کہ اس نے اپنی تبدیلی نہیں کی اور وہ سچائی اور معرفت کے نور سے جو تاریکی کو دور کرتا اور دل میں ایک یقین اور لذت بخشتا ہے دور رہا اور اس لئے ہلاک ہو گیا۔ اور الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۹)