ملفوظات (جلد 3) — Page 263
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۳ جلد سوم ۸۰ ہزا رو با سے مر گئے تھے ۔ اگر چہ اور لوگ بھی گنہ گار تھے مگر موسیٰ کی قوم اس وقت دو ہری ذمہ دار تھی ۔ بہت کم لوگ ہیں جو کہ دلوں کو صاف کرتے ہیں اگر ایک پاخانہ میں سے پاخانہ تو اٹھالیا ۔ جاوے مگر اس کے چند ایک ریزے باقی رہیں تو کسی کا دل گوارا کرتا ہے کہ اس میں روٹی کھاوے۔ اسی طرح اگر پاخانہ کے ریزے دل میں ہوں تو رحمت کے فرشتے اس میں داخل نہیں ہوتے۔ ہے إِلَّا الَّذِينَ عَلَوا کا لفظ ہمیشہ دل میں خطرہ ڈالتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ قضا و قدر مقدر ہے بار بار شور قرآن شریف کو پڑھو گے اور اپنی اصلاح کرو اگر ہماری جماعت میں کسی کو طاعون ہوا تو مخالف ہی ڈالیں گے کہ دیکھو ٹیکہ نہ کرایا تو ہلاک ہوئے اور اگر وہ لوگ بچے رہے تو ہنسیں گے۔ خدا کے کام اور لے الحکم میں ہے ” یہ سب ابتلا ان کی اپنی بدکاریوں کا نتیجہ تھے اور انہوں نے اس طرح پر اپنے عمل سے گو یا موسیٰ کو بدنام کیا۔ پس تم اپنے آپ کو درست کرو تا کہ ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی سلسلہ کو بدنام کرنے والا ٹھہرے ۔ ے اسی ذکر میں الحکم میں مزید لکھا ہے ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۸) ” میرے واسطے یہ ایک نشان ہے اور میں اپنے اللہ پر یقین رکھتا ہوں کہ وہ ایسا ہی کرے گا جیسا کہ اس نے فرمایا انی أحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ اور أَحَافِظُكَ خَاصَّةً مگر ہماری جماعت کو لازم ہے کہ وہ نرے دعوئی پر ہی نہ رہے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو درست کرے اور اپنی اصلاح کرے جو اپنی اصلاح نہیں کرتا اور تقویٰ اور طہارت اختیار نہیں کرتا وہ گویا اس سلسلہ کا دشمن ہے جو اس کو بدنام کرنا چاہتا ہے اور یہ سلسلہ خود خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔ اس لیے وہ اپنے عمل سے گویا خدا تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کی کیا پروا کرے گا۔ اسے تو اپنے سلسلہ کی عظمت منظور ہے ۔ وہ ایسے لوگوں سے جو اس کے لیے دشمنی کا کام کریں سلسلہ کو صاف کر دے گا۔“ سے الحکم میں لکھا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۸) الہام میں جو یہ آیا ہے إِلَّا الَّذِينَ عَلُوا بِاسْتِكْبَارِ یہ بڑا مندر اور ڈرانے والا ہے اس لئے ضروری ہے کہ بار بار کشتی نوح کو پڑھو اور قرآن کو پڑھو اور اس کے موافق عمل کرو کسی کو کیا معلوم ہے کہ کیا ہونے والا ہے تم نے اپنی قوم کی اور اسکے طرف سے جو لعنت ملامت لینی تھی وہ لے چکے۔ لیکن اگر اس لعنت کو لے کر خدا تعالیٰ کے ساتھ بھی تمہارا معاملہ صاف نہ ہوا اور اس کی رحمت اور فضل کے نیچے نہ آؤ تو پھر کس قدر مصیبت اور مشکل ہے۔ اخباروں والے کس قدر شور