ملفوظات (جلد 3) — Page 262
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۲ جلد سوم یہی ہے کہ ہر ایک رنگ جدا ہے ثابت کرو کہ کوئی نبی طاعون سے مرا ہو ورنہ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی قدر رفتنہ برپا ہوتا۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ یہودیوں کو طاعون ہوا ہو تو موسی کو بھی ساتھ ہوا ہو ورنہ یہودی سارے مرتد ہو جاتے ۔ طاعون کا علاج ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب ٹیکہ بھی علاج نہیں اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ حفاظت ہے تو پھر مرہم عیسی اور جدوار کا استعمال کیوں بتلایا ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ جو علاج اللہ تعالیٰ بتلاوے وہ تو اسی حفاظت میں داخل ہے کہ اس نے خود ایک طریق حفاظت بھی ساتھ بتلادیا اور انشراح صدر سے ہم اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ٹیکہ میں خیر ہوتی تو ہم کو اس کا حکم کیا جاتا اور پھر دیکھتے کہ سب سے اول ہم ہی کرواتے اگر خدا تعالیٰ آج ہی بتلاد یوے کہ فلاں علاج ہے یا فلاں دوا مفید ہے تو کیا ہم اسے استعمال نہ کریں گے؟ وہ تو نشان ہوگا ۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم خود کس قدر متوکل تھے مگر ہمیشہ لوگوں کو دوائیں بتلاتے تھے اگر ہم عوام الناس کی طرح ٹیکہ کر اویں تو خدا پر ایمان نہ ہوا۔ پہلے یہ تو فیصلہ کیا جاوے کہ آیا ہم نے ۲۲ برس پہلے طاعون کی اطلاع دی کہ جس وقت طاعون کا نام ونشان نہ تھا اور پھر ہر ۵ برس کے بعد اس کے متعلق ضرور کوئی نہ کوئی خبر دی جاتی رہی ہے پھر پنجاب کے متعلق خبر دی حالانکہ اس وقت کوئی مقام اس میں مبتلا نہ تھا۔ پھر ایک دم پنجاب کے ۲۳ ضلعوں میں پھیل گئی۔ وہ تمام کتابیں جن میں یہ بیان ہیں خود گورنمنٹ کے پاس موجود ہیں ۔ اگر ٹیکہ میں کوئی خیر ہوتی تو خدا خود ہمیں بتلاتا اور ہم اس وقت سب سے پہلے ٹیکہ لگوانے میں اوّل ہوتے مگر جب کہ گورنمنٹ نے اختیار دیا ہے تو یہ اختیار گویا خدا ہی نے ہمیں دیا ہے کہ جبر اٹھوا دیا۔ ہماری جماعت کا صرف دعوی ہی دعوی نہ طاعون کے سلسلہ میں جماعت کو نصیحت ہو کہ وہ اس دعوئی بیعت پر نازاں رہیں بلکہ ان کو اپنے اندر تبدیلی کرنی چاہیے۔ دیکھو ! طاعون کئی بار موسیٰ علیہ السلام کے لشکر پر پڑی اب دشمن تو خوش ہوتے ہوں گے مگر موسیٰ علیہ السلام کو کس قدر شرمساری ہوگی ۔ لکھا ہے کہ بلغم کی بددعا کی وجہ سے