ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 236

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۶ جلد سوم ۱۱۔ فرمایا۔ طاعون کے متعلق سارے نبی پیشگوئی کرتے آئے ہیں کہ مسیح موعود کے وقت میں طاعون شدت سے پھیلے گی ۔ او ۱۹۰۲ء میں ندوۃ العلماء کا سالانہ جلسہ بمقام ندوۃ العلماء اور اصلاح کا صحیح طریق امرتسر ہوا تھا۔ اس جلسہ پر اعلیٰ حضرت مسیح موعود نے بھی اپنے رسل بغرض تبلیغ بھیجے تھے۔ ۱۳ تھے۔ ۱۳ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو جلسہ سے واپس آنے پر بعض اور لوگ بھی دارالامان آئے ۔ سلسلہ کلام میں ندوہ کے متعلق ذکر آیا کہ وہ بحث مباحثہ سے الگ رہ کر اصلاح چاہتے ہیں ۔ اس پر فرمایا۔ اگر ندوہ کا دعوی اصلاح ہے تو امر تنقیح طلب یہ ہے کہ اصلاح کس طرح ہو سکتی ہے اور کن راہوں سے ہو رہی ہے اور اسلام پر کیا حملہ ہو رہا ہے؟ اس کی مدافعت اور انسداد کی تدابیر کا سوال بے محل اور ایسا دعویٰی خیالی دعویٰ ہوگا ۔ پھر قابل غور یہ امر ہے کہ ان ساری خرابیوں کا انسداد ارضی طاقت سے ہوسکتا ہے یا آسمانی تائیدات سے؟ اگر ندوہ والے یہ چاہتے ہیں کہ لوگ پڑھ کر یعنی انگریزی تعلیم حاصل کر کے نوکر ہو جائیں اور ان کو ملازمت کے لیے آسانیاں ہوں تو یہ دین کا کام نہیں ہے۔ یہ تو قوم کو غلام بنانے کی تدابیر ہیں۔ اور اگر ان کی غرض دینی اصلاح ہے تو پھر یا درکھیں کہ ع خدا را بخدا تواں شناخت اس اصل کو چھوڑ کر جو شخص چاہتا ہے کہ دینی اصلاح ہو جاوے۔ وہ کبھی اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس خشک اور خیالی اصلاح سے کیا فائدہ ہوگا جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدیں اور نصرتیں نہیں ہیں۔ وہ باتیں جو نری لفاظی کے طور پر بیان کی جاویں یا قصہ اور کہانی کی طرح گذشتہ امور پر جس کا حوالہ ہو ان کی پہلے سے کیا کمی ہے جو ایک خاص جماعت اپنا وقت اور غریب مسلمانوں کا روپیہ لے کر صرف کرے اور نتیجہ کچھ بھی نہ ہو۔ میں اس قسم کی کارروائیوں کو کبھی پسند نہیں کرتا۔ ایسی باتوں سے ریا کاری اور نفاق کی بُو آتی ہے کیونکہ یہ طریق اس مطلب اور غرض کے حصول سے الحکم جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخه ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۹، ۱۰