ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 235

آتھم کا رجوع الی الحق ۹۔آتھم کی <mark>پیش</mark>گوئی کے متعلق ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔کہ ہماری جماعت کو یہ <mark>مسائل</mark> مستحضر ہونے چاہئیں۔آتھم کے رجوع کے متعلق <mark>یاد</mark> رہے کہ <mark>پیش</mark>گوئی سنتے ہی <mark>اس</mark> نے اپنی زبان نکالی اور کانوں پر ہاتھ رکھا اور کانپا اور زرد ہو گیا۔ایک جماعت کثیر کے <mark>سامنے</mark> <mark>اس</mark> کا یہ رجوع دیکھا گیا۔پھر <mark>اس</mark> پر خوف غالب ہوا۔اور وہ شہر بشہر بھاگتا پھرا۔<mark>اس</mark> نے اپنی مخالفت کو چھوڑ دیا اور کبھی <mark>اس</mark>لام کے مخالف کو ئی تحریر شائع نہ کی۔جب انعامی اشتہار دے کر قسم کے لئے بلایا گیا تو وہ قسم کھانے کو نہ آیا۔اخفائے شہادت حقہ کی پاداش میں <mark>اس</mark> <mark>پیش</mark>گوئی کے موافق جو <mark>اس</mark> کے حق میں کی گئی تھی۔وہ ہلاک ہو گیا۔یہ باتیں اگر عیسائی منصف مزاج کے <mark>سامنے</mark> <mark>پیش</mark> کی <mark>جاویں</mark> تو <mark>اس</mark> کو بھی <mark>تسلیم</mark> <mark>کرنا</mark> <mark>پڑے</mark> <mark>گا</mark>۔<mark>غرض</mark> <mark>اس</mark> <mark>طرح</mark> پر <mark>مسائل</mark> کو <mark>یاد</mark> <mark>رکھنا</mark> ایک <mark>فرض</mark> ہے۔اور <mark>کتابوں</mark> کا <mark>دیکھنا</mark> ایک <mark>ضروری</mark> ہوتا ہے۔رفع کے معنے ۱۰۔رفع کے متعلق جو اعتراض کرتے ہیں۔<mark>اس</mark> کے لئے یہ سمجھنا چاہیئے کہ رفع سے یہودی تو یہی معنے سمجھے ہوئے تھے کہ جس پر لعنت <mark>پڑے</mark> <mark>اس</mark> کا روح آسمان پر نہیں جاتا۔ان کا یہ مذہب کب تھا کہ نجات کے لئے آسمان پر جانا <mark>ضروری</mark> ہے۔پس یہودیوں کی اصل <mark>غرض</mark> مسیح کو صلیب دینے سے یہ تھی۔ان کے جسم سے ان کو کیا کام تھا۔اللہ تعالیٰ کو بھی <mark>اس</mark>ی اختلاف کا رفع <mark>کرنا</mark> اور ان کی غلط فہمی کو رفع <mark>کرنا</mark> مقصود تھا۔اب اگر رفع سے جسمانی مراد ہے تو یہودیوں کے <mark>اس</mark> الزام کی بریّت کہاں ہے؟ <mark>اس</mark> <mark>طرح</mark> پر ہر قسم کے اعتراضوں کا جواب پہاڑوں کی <mark>طرح</mark> <mark>یاد</mark> ہونا چاہیئے۔مستحضر جواب دینا ہر ایک کا کام نہیں۔اگر پکا جواب نہ ہو تو ؎ عذر نا معقول ثابت میکند الزام را۔کا معاملہ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے <mark>اس</mark> سلسلہ کی سچائی کے تو ایسے دلائل دے دیئے ہیں کہ اگر <mark>یاد</mark> ہوں تو پھر کوئی مشکل نہیں۔میرا ارادہ ہے کہ <mark>اس</mark> کتاب کے بعد پھر امتحان کی صورت رکھی جاوے۔رؤسا میں سے کسی کو خیال آوے کہ <mark>اس</mark>لام میں پھوٹ پڑ رہی ہے اور وہ <mark>اس</mark> کام کو اپنے ذمہ لے اور ایک جلسہ کر کے فیصلہ کر لے۔