ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 237

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۷ جلد سوم کوسوں دور ہے جس کے لیے انسان پیدا کیا گیا ہے اور جس طرح دنیا کی اصلاح ہوا کرتی ہے وہ رنگ اس میں موجود نہیں ہے۔ اصلاح کا طریق ہمیشہ وہی مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اذن اور ایماء سے ہو۔ اگر ہر شخص کی خیالی تجویزوں اور منصوبوں سے بگڑی ہوئی قوموں کی اصلاح ہو سکتی تو پھر دنیا میں انبیاء علیہم السلام کے وجود کی ہی کچھ حاجت نہ رہتی ۔ جب تک کامل طور پر ایک مرض کی تشخیص نہ ہو اور پھر پورے وثوق کے ساتھ اس کا علاج معلوم نہ ہونے کا میابی علاج میں نہیں ہو سکتی ۔ اسلام کی جو حالت نازک ہو رہی ہے وہ ایسے ہی طبیبوں کی وجہ سے ہو رہی ہے جنہوں نے اس کی مرض کو تو تشخیص نہیں کیا اور جو علاج اپنے خیال میں گزرا اپنے مفاد کو مد نظر رکھ کر شروع کر دیا۔ مگر یقیناً یا د رکھو کہ اس مرض اور علاج سے یہ لوگ محض نا واقف ہیں ۔ اس کو وہی شناخت کرتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اسی غرض کے لیے بھیجا ہے اور وہ میں ہوں ۔ اصلاح اسلام کے اندر ایک ح احوال کے لیے آسانی تدابیر کی ضرورت ہے خطرناک پھوڑا ہو گیا ہے اور ایک جذام باہر کی طرف سے اسے لگ رہا ہے۔ اندرونی پھوڑے کا باعث خود مسلمان ہوئے ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیمات اور اُسوہ حسنہ کو چھوڑ کر اپنی تجویز اور رائے کے موافق اس میں اصلاح اور ترمیم شروع کر دی ۔ وہ باتیں جو کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہم وگمان میں بھی نہ آئی تھیں آج عبادت قرار دی گئی ہیں اور زہد وریاضت کا بہت بڑا مدار انہیں پر رکھا گیا ہے۔ ان باتوں کو دیکھ کر بیرونی دشمنوں کو بھی موقع ملا اور وہ تیر و تفنگ لے کر اسلام کو کوبھی ملا اور وہ یونگ لے پر حملہ آور ہوئے ا اور ہوئے اور اس کے پاک وجود کو چھلنی کر دیا اور اسے ایسی مکروہ ہیئت میں دشمنوں نے دکھانا شروع کیا کہ غیر تو غیر تھے ہی اپنوں کو بھی متنفر کر دیا۔ ہر شخص نے اپنے طرز پر اس کی تصویر کو بھیانک بنانے کی فکر کی ۔ ایسی صورت میں زمینی حربہ اور ارضی تدابیر کام نہیں دے سکتی ہیں ۔ اس کے لیے آسمانی حربہ اور آسمانی تدابیر کی حاجت ہے۔ اس لیے جب تک آسمانی کشش آسمانی