ملفوظات (جلد 3) — Page 228
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۸ جلد سوم آنحضرت موسی عیسی کے مصائب پر ذرا غور کرو۔ ان باتوں کے ذکر کی ضرورت نہیں۔ اول خدا سے تعلق پیدا کرو۔ جب انسان کسی گھر میں داخل ہوتا ہے تو اندر کے حالات کا آپ ہی پتہ لگ جاتا ہے۔ جب تک گھر سے ہزاروں کوس دور ہے تو اندر کے حالات کس طرح بتلا سکے گا۔ یہ مناسب ہے کہ آپ چند روز ہمارے پاس رہیں اور خاص ہمارے سلسلہ کے متعلق جو اعتراض ہوں وہ بیان کریں۔ تو کارے زمیں را نکو ساختی که با آسمان نیز پرداختی ہم نے بعض آدمی ایسے دیکھے ہیں جو کہتے ہیں کہ اجی اس جھگڑے کو جانے دو۔ رفع یدین اور انگلی کے اُٹھانے کا فیصلہ کرو۔ مگر یہ اپنا اپنا مذاق ہوتا ہے۔ نو وارد صاحب کی طرف سے سوال ہوا کہ سایہ کا وجود ہے کہ نہیں یعنی اس کی ذات ہے کہ نہیں۔ ہوا کہ فرمایا۔ وجود کے معنے ہیں مَا يُوجد یعنی جو چیز پائی جاوے اس کی ہویت ہو یا نہ ہو۔ آپ آئینہ دیکھتے ہیں ، اس میں چہرہ نظر آتا ہے۔ ہویت تو نہیں یعنی ایک مستقل کے قائم بالذات ۔ پس ہویت تو نہیں ہے لیکن وجود ہے۔ وجود اور ہے اور ہو یت اور ہے۔ آفتاب نے جہاں ظل ہے وہاں بھی دھوپ ڈالنی ہے۔ مگر ایک چیز نے درمیان آکریل پیدا کر دیا ہے۔ آفتاب اور نظل کے درمیان جب تک اوٹ نہ ہو سا یہ نہیں ہو سکتا۔ خیر آپ کو بھی اس وجودیت سے کچھ مذاق ہے اور ہم آپ کے مذاق کے خلاف ہیں۔ پھر سوال ہوا کہ کن کا اطلاق کہاں آتا آتا ہے۔ ن کا اطلاق فرمانا فرمایا۔ بات یہ ہے کہ آپ کئی مرتبہ خوابوں میں طرح طرح کے تمثلات دیکھا کرتے ہوں گے اور بظاہر آپ جانتے ہیں کہ ان کا وجود کچھ نہیں ،حکماء نے بھی لکھا ہے۔ پس جس طرح ہمارے تصورات ہوتے ہیں اسی طرح خدا کی صفات میں سے اس کے تصورات بھی ہیں ۔ پس جو تصور آتا ہے اگر انسانی ہے تو وہ بیچ ہے اور اگر خدا کا ہے تو اس سے مخلوق پیدا ہو جاتی