ملفوظات (جلد 3) — Page 229
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۹ جلد سوم ہے۔ مگر خدا کی گنہ میں ہم دخل نہیں دے سکتے ۔ اسلم طریق یہی ہے کہ انسان لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ پر ایمان رکھے کہ میرا منصب نہیں کہ خدا کی گل صفات کو میں دیکھ لوں اور ان کی تحقیقات کرلوں ۔ طبیب بیان کرتے ہیں کہ پانی سرد اور آگ گرم ہے ۔ مگر یہ نہیں بتلا سکتے کہ پانی سرد کیوں ہے اور آگ گرم کیوں ہے۔ فلاسفر بھی یہاں گنہ اشیاء میں آکر عاجز رہ گئے ہیں ۔ یہاں اُفَوِّضُ أَمْرِی إلى الله (المؤمن : ۴۵) پر چلے کہ ہم خدا پر چھوڑ دیں۔ بعض اکا بر محی الدین العربی وغیرہ کی نسبت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ اس لیے کہ یہ بحث فضول ہے۔ بہت امور مرنے کے بعد معلوم ہوں گے۔ اور بہت سے ایسے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی نہیں معلوم ہوں گے۔ محی الدین بھی قائل ہیں کہ انسان متقی ہو۔ اور خدا پر ایمان لانے والا ہو تو نجات پائے گا۔ لے ۱۲ اکتوبر ۱۹۰۲ء (دربار شام) بعد ادائے نماز مغرب حسب معمول حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام شد نشین پر اجلاس فرما ہوئے ۔ حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب سلمہ اللہ الرحیم نے شحنہ ہند کے ایڈیٹر کا ایک کارڈ سنایا۔ جس میں اس نے اپنا ایک خواب لکھا تھا کہ گویا وہ قادیان آیا ہے اور حضرت اقدس کو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ سر پاؤں سے لگا ہوا ہے۔ اس پر حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا کہ تعبیر الرؤیا میں یہ صاف لکھا ہے کہ جو لوگ مامورین کو بُری انبیاء آئینہ کا حکم رکھتے ہیں میرا صورت میں دیکھتے ہیں وہ لوگ اپنی پردہ دری کراتے ہیں ۔ مولوی ابو یوسف محمد مبارک علی صاحب کے والد مرحوم نے ایک بار مجھ سے ذکر کیا کہ ایک ہندو ان کے پاس آیا کرتا تھا۔ جو رغبت اسلام رکھتا تھا۔ کچھ عرصہ کے بعد وہ کشمیر سے آیا اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ اب میں پکا ہندو ہو گیا ہوں ۔ لیکن پھر کچھ عرصہ کے بعد جو اس کو دیکھا تو وہ عیسائی له الحکم جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخه ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۴ تا ۸