ملفوظات (جلد 3) — Page 227
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۷ جلد سوم نہیں کہ مروڑ کر اور معنی کر لیں۔ بعض آدمی مذاق کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ مگر مذاق بھی ایک قسم کا زہر ہے۔ ہمیں مذاقی معنے پسند نہیں کرنا چاہئیں بلکہ تو ارد قرآن اور حدیث کو دیکھنا چاہیے وہ یہی کہتی ہیں کہ ایک وقت ایسا تھا کہ ان موجودہ چیزوں میں سے ایک بھی نہ تھی ۔ میرے خیال میں وحدت وجود بھی مذاق سے پیدا ہوا ہے۔ کل کتب گذشتہ سے یہی معنی ثابت ہوتے ہیں اور اس کی تفصیل قرآن اور توریت میں موجود ہے۔ اوّل تو ان بحثوں کی حاجت نہیں۔ انسان کے واسطے پہلے تو یہی امر ضروری ہے کہ اجمالی طور پر خدا پر ایمان لاوے۔ جب اس کا ایمان پیدا ہو گا تو خود بخود اس پر حقائق کھلتے جاویں گے۔ دیکھو! ایک مرض میں قوت ذائقہ جاتی رہتی ہے۔ ترشی ، میٹھا، کٹڑ وانمکین وغیرہ سب کچھ بے مزہ معلوم دیتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ قوت حاسہ بھی کام دے رہی ہے۔ ایک قوت ناک میں ہوتی ہے جس کے وہ نہیں رہتی اس کو اخشم کہتے ہیں۔ بعض کے کانوں کی قوت ماری جاتی ہے۔ پس جب اس طرح بعض قوتیں جاتی رہتی ہیں ۔ تو اسی طرح بعض اوقات دینی قوتیں بھی بے حس ہو جاتی ہیں اور انسان سید احمد خان کی طرح دعا کا قبول ہونا اور ایسی باتیں ناممکن خیال کر بیٹھتا ہے ۔ ہے۔ دعا کے قبول ہونے پر ہمارا کامل ایمان ہے۔ اور ہم نے اس کا نتیجہ بھی قبولیت دعا کا ثبوت دعا دیکھا ہے کہ لیکھرام کے قتل سے پہلے پانچ سال میں نے خبر دی تھی ۔ میں نے سید احمد خاں کو لکھا تھا کہ میں نے لیکھرام کے واسطے دعا کی ہے تو مجھے خبر دی گئی ہے کہ تیری دعا قبول ہو گئی ہے اور خدا تعالیٰ اس کو ہیبت ناک موت سے مارے گا۔ یہی نمونہ تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں کہ اگر یہ دعا قبول نہ ہوئی تو تمہارے دعوی کا ثبوت ہوا۔ اور اگر قبول ہوگئی تو تم اس عقیدہ سے تو بہ کرنا۔ اور وہ لیکھرام کی موت کو دیکھ کر فوت ہوا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کا ہے لَا تُدْرِكْهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبصار ( الانعام : ۱۰۴) آنکھیں تو اس کو دیکھ نہیں سکتیں اور وہ آنکھوں کو دیکھ سکتا ہے۔ جب وجودی ہو گیا تو پھر باقی کیا رہ گیا۔ اصل میں یہ سب مذاقی باتیں ہیں ۔ ثبوت تو وہ ہے جس کا نمونہ انسان دکھلا دیوے۔