ملفوظات (جلد 3) — Page 211
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۱ جلد سوم سلطنتوں اور خاص کر ہماری سلطنت کا بہت بڑا اقبال ہے۔ حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر سلطنت میں طاعون جاوے گی ۔ ان کو خدا کے تصرف پر یقین نہیں ۔ پہلے بادشاہوں کا یہی حال تھا کہ جب کوئی آفت رعایا پر آتی تو خود ان میں تضرع کی حالت پیدا ہوتی اور وہ دعائیں کرتے اور کراتے اور صدقات سے کام لیتے ۔ مگر آج کل تدابیر اور اسباب ہی پر سارا بھروسہ ہے۔ دعاؤں کو لغو اور بیہودہ شئے سمجھا گیا ہے۔ اور اصل تو یہ ہے کہ قضا و قدر کا سارا سلسلہ تو سچے خدا پر ایمان لانا تھا۔ جب حضرت عیسی علیہ السلام کو خدامان لیا۔ پھر اس سلسلہ پر کیوں ایمان لاتے۔ فرمایا۔ افیون کی مضرت جو لوگ افیون کھاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں موافق آگئی ہے۔ وہ موافق نہیں آتی۔ دراصل وہ اپنا کام کرتی رہتی ہے اور قومی کو نابود کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں بشارت دی ہے یہ سچ ہے اور یہ إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ ایک نشان ہے اس کی طرف سے۔ اللہ تعالی کسی علاج سے منع نہیں کرتا بلکہ شہد اور مشک وغیرہ کا خود ذکر کرتا ہے۔ اس لیے اگر ٹیکا ضروری ہوتا تو سب سے پہلے ہم کو حکم ہوتا ۔ خود گورنمنٹ کو بھی اس پر پورا وثوق نہیں ہے۔ یہ الہام جواني أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدار ہے اس میں ڈرایا بھی ہے جبکہ اس نے فرمایا ہے إِلَّا الَّذِينَ عَلَوْا بِاسْتِكْبَارِ جو لوگ فسق کی پروا نہیں کرتے وہ اللہ تعالیٰ کی اس ذمہ داری سے الگ ہیں اور جن لوگوں کی زندگی کا درجہ ختم ہو گیا ہے وہ بھی الگ ہیں ۔ اور سب سے آخر یہ بات ہے کہ نسبتاً جو اُن میں ہیں وہ محفوظ رہیں گے۔ قرآن شریف میں بھی آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں اور کافروں میں ایک فرق رکھ دیتا ہے اور ان میں فاروق ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے۔ اس زندگی میں کیا مزہ ہے جو حشائش پر ہاتھ مارتا ہے۔ وہی زندگی بہشتی زندگی اور قابلِ قدر زندگی ہے جس میں اللہ تعالیٰ سے تمسک ہو ورنہ حشائش پر ہاتھ مارنے والوں کی زندگی کی تو ایسی مثال ہے جیسے بلی کے بچہ کے پیچھے کتا ہوا اور وہ چوہے کے بل پر ہاتھ مارتا پھرے۔