ملفوظات (جلد 3) — Page 210
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۰ جلد سوم اس نے ایک اور تمثیل انہیں سنائی کہ آسمان کی بادشاہت اُس خمیر کی طرح ہے جسے کسی عورت نے لے کر تین پیمانہ آٹے میں ملا دیا اور ہوتے ہوتے سب خمیر ہو گیا ۔ فرمایا ۔ اگر یہ صحیح ہے تو یہ پیشگوئی ہے۔ عورت سے مراد دنیا ہے اور مسیح سے لے کر اس وقت تک تین ہی پیمانے ہوتے ہیں ۔ یعنی خود مسیح ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اس وقت یہ سلسلہ ۔ ہم نے جو تعلیم لکھی ہے اور کشتی نوح میں چھپی ہے۔ اس کو پڑھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ تین پیمانوں کو ایک کیا گیا ہے۔ عورت سے مراد دنیا ہے ۔ گو دنیا نے طبعاً تقاضا کیا کہ یہ سلسلے اس طرح پر قائم ہوں ۔ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو پیش کر کے مسیح کی تعلیم کے زوائد کو نکال دیا ہے۔ براہین کے الہامات میں مجھے اور مسیح ابن مریم کو ایک ہی جو ہر کے دوٹکڑے کہا گیا ہے۔ اس کے بعد نماز عشاء کا در بارختم ہوا۔ کے ۸ اکتوبر ۱۹۰۲ء (صبح کی سیر ) یا جوج ماجوج کے تذکرہ پر فرمایا کہ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (الانبیاء : (۹۷) کے بعد وہ خدا سے جنگ کریں گے۔ اب گویا یہ خدا سے جنگ ہے۔ یہ استعارہ ہے کہ جب اقبال یہاں تک پہنچ جاوے کہ کوئی سلطنت ان کے مقابل نہ ٹھہرے تو پھر خدا سے جنگ کرنی چاہیں گے۔ خدا سے جنگ یہی ہے کہ نہ ان میں تضرع اور زاری ہے اور نہ دعا کی حقیقت پر نظر ہو بلکہ اسباب اور تدابیر پر پورا بھروسہ ہوا اور قضا و قدر کا مقابلہ کیا جاوے۔ ڈوئی کے سامنے جو ہمارا مقدمہ تھا۔ اس میں بھی خدا نے یہی فرمایا کہ ہم گویا اُتر کر لڑے اِنا تَجَالَدْنَا فَانْقَطَعَ الْعَدُوُّ وَأَسْبَابُهُ ۔ اور اس میں دونوں دشمن نا کام اور نا مراد رہے۔ جب قضا و قدر ائل ہو تو پھر جو کوئی اس کا مقابلہ کرتا ہے تو گویا خدا سے لڑائی کرتا ہے۔ یورپ کی الحکم جلد ۶ نمبر ۳۷ مؤرخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۱، ۱۲