ملفوظات (جلد 3) — Page 212
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۲ جلد سوم جناب ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے ذکر کیا کہ ایک کیا انسان ابتدا میں وحشی تھا مخص نے ان سے اس امر پر گفتگو کی کہ انسان پہلے وحشی تھا اور وہ پھر ترقی کرتے کرتے تہذیب کے درجہ پر پہنچا ہے۔ فرمایا کہ جب ہم انسان کو مہذب دیکھتے ہیں تو کیوں اس کی جڑ تہذیب نہ بتائیں۔ قرآن شریف سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ - ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سفِلِينَ (التین: ۶۵) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پیچھے وحشی بن گئے۔ میں کہتا ہوں کہ کیا خدا تعالیٰ کو پہلا عمدہ نمونہ دکھانا چاہیے تھا یا خراب اور آولُ اللنِ دُرد کا مصداق خدا نے برا بنایا تھا اور پھر گھس گھس کر خود عمدہ بن گیا یہ خدا تعالیٰ کی شان میں گستاخی اور توہین ہے۔ اس کی تو وہی مثال ہے جو مثنوی میں ایک بہرہ کی حکایت لکھی ہے کہ مثنوی سے ایک مثال وہ کسی بیا کی عیادت کوگیا اور خودی تجویز کرلیا کہ پہلے مرا پوچھوں گا۔ وہ کہے گا اچھا ہے۔ میں کہوں گا الحمد للہ ۔ اور پھر میں پوچھوں گا کہ آپ کیا کھاتے ہیں تو وہ چونکہ بیمار ہے یہی کہے گا کہ مونگ کی دال کھاتا ہوں ۔ میں کہوں گا بہت اچھا ہے اور پھر پوچھوں گا طبیب کون ہے ۔ وہ کہے گا کہ فلاں ہے۔ میں کہوں گا خوب ہے۔ دستِ شفا ہے۔ لیکن جب وہاں گئے تو ( مریض سے ) آپ کا مزاج کیسا ہے؟ بہرہ ۔ مریض ۔ مر رہا ہوں ۔ بہرہ۔ الحمد لله ( مریض سے ) آپ کی غذا کیا ہے؟ بہرہ۔ مریض خون جگر ۔ بہرہ ۔ بہت اچھی غذا ہے۔ بہرہ۔ ( مریض سے ) طبیب کون ہے؟ مریض ملک الموت ۔