ملفوظات (جلد 3) — Page 12
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹ جنوری ۱۹۰۲ء ( بوقت سیر ) الم جلد سوم ابتدائے جنوری ۱۹۰۲ء کو ایک عرب صاحب آئے ہوئے تھے۔ بعض لوگ ان ایک پرانا الہام کے متعلق مختلف رائیں رکھتے تھے۔ حضرت اقدس امام علیہ الصلوۃ والسلام کو 9 جنوری کی شب کو اس کے متعلق الہام ہو ا قَدْ جَرَتْ عَادَةُ اللَّهِ أَنَّهُ لَا يَنْفَعُ الْأَمْوَاتَ إِلَّا الدعاء اس وقت رات کے تین بجے ہوں گے ۔ حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ اس وقت پر میں نے دعا کی تو یہ الہام ہوا فَكَلِّمُهُ مِنْ كُلِّ بَابٍ وَلَنْ يَنْفَعَهُ إِلَّا هُذَا الدَّوَاءُ أَي الدُّعَاءُ) اور پھر ایک اور الہام اسی عرب کے متعلق ہوا کہ فَيَتَّبِعُ الْقُرْآنَ إِنَّ الْقُرْآنَ كِتَابُ اللهِ كِتَابُ الصَّادِقِ - چنانچہ ۹ جنوری ۱۹۰۲ ء کی صبح کو جب آپ سیر کو نکلے تو حضرت اقدس نے عربی زبان میں ایک تقریر فرمائی۔ جس میں سلسلہ محمدیہ اور موسویہ کی مشابہت کو بتایا اور پھر سورہ نور کی آیت استخلاف اور سورۂ تحریم سے اپنے دعاوی پر دلائل پیش کیے اور قرآن شریف اور احادیث کے مراتب بتائے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ عرب صاحب جو پہلے بڑے جوش سے بولتے تھے بالکل صاف ہو گئے اور انہوں نے صدق دل سے بیعت کی اور ایک اشتہار بھی شائع کیا اور بڑے جوش کے ساتھ اپنے ملک کی طرف بغرض تبلیغ چلے گئے ۔ چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام تھا ہم نے اس کی عزت و عظمت کے لحاظ سے ضروری سمجھا کہ گو پرانا الہام ہے لیکن چونکہ آج تک یہ سلسلہ اشاعت میں نہیں آیا اس کو شائع کر دیا جاوے۔ نشانات کس سے صادر ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب حضرت حجتہ اللہ علیہ السلام نے ایک بار اپنی ایک مختصر سی تقریر میں دیا ہے۔ فرمایا۔ نشانات کس سے صادر ہوتے ہیں۔ جس کے اعمال بجائے خود خوارق کے درجہ تک پہنچ ، جائیں ۔ مثلاً ایک شخص خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرتا ہے وہ ایسی وفاداری کرے کہ اُس کی وفا