ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 13

ملفوظات حضرت مسیح موعود الله جلد سوم خارقِ عادت ہو جاوے۔ اُس کی محبت اُس کی عبادت خارقِ عادت ہو۔ ہر شخص ایثار کر سکتا ہے اور کرتا بھی ہے لیکن اس کا ایثار خارقِ عادت ہو۔ غرض اس کے اخلاق ، عبادات اور سب تعلقات جو خدا تعالیٰ کے ساتھ رکھتا ہے اپنے اندر ایک خارق عادت نمونہ پیدا کریں۔ تو چونکہ خارقِ عادت کا جواب خارقِ عادت ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر نشانات ظاہر کرنے لگتا ہے۔ پس جو چاہتا ہے کہ اس سے نشانات کا صدور ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے اعمال کو اس درجہ تک پہنچائے کہ ان میں خارق عادت نتائج کے جذب کی قوت پیدا ہونے لگے۔ انبیاء علیہم السلام میں یہی ایک نرالی بات ہوتی ہے کہ ان کا تعلق اندرونی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا شدید ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کا ہر گز نہیں ہوتا ۔ ان کی عبودیت ایسا رشتہ دکھاتی ہے کہ کسی اور کی عبودیت نہیں دکھا سکتی ۔ پس اس کے مقابلہ میں ربوبیت اپنی تجلی اور اظہار بھی اسی حیثیت اور رنگ کا کرتی ہے۔ عبودیت کی مثال عورت کی سی ہوتی ہے کہ جیسے وہ حیا و شرم کے ساتھ رہتی ہے اور جب مرد بیاہنے جاتا ہے تو وہ علانیہ جاتا ہے۔ اسی طرح پر عبودیت پردۂ خفا میں ہوتی ہے لیکن الوہیت جب اپنی تجلی کرتی ہے تو پھر وہ ایک بین امر ہو جاتا ہے۔ اور ان تعلقات کا جو ایک سچے مومن اور عبد اور اس کے رب میں ہوتے ہیں خارقِ عادت نشانات کے ذریعہ ظہور ہوتا ہے ۔ انبیاء علیہم السلام کے معجزات کا یہی راز ہے اور چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلقات اللہ تعالیٰ کے ساتھ گل انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے اس لیے آپ کے معجزات بھی سب سے بڑھے ہوئے ہیں ۔ کے ۱۵ جنوری ۱۹۰۲ء (شب) طاعون کی خبریں سن کر فرمایا۔ طاعون اور لوگوں کی حالت یہ خدا کی طرف سے کس قدر تنبیہ ہے اگر ابھی دل بیدار نہ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۳، ۴