ملفوظات (جلد 3) — Page 11
ملفوظات حضرت مسیح موعود 11 جلد سوم یہ نہیں کہا کہ تم جو مانگو گے وہی دیا جاوے گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بعض اقتراحی نشانات مانگے گئے تو آپ نے یہی خدا کی تعلیم سے جواب دیا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رسُولًا (بنی اسراءیل: ۹۴) خدا کے رسول کبھی اپنی بشریت کی حد سے نہیں بڑھتے اور وہ آداب الہی کو مد نظر رکھتے ہیں۔ یہ باتیں منحصر ہیں معرفت پر ۔ جس قدر معرفت بڑھی ہوئی ہوتی ہے اسی قدر خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت دل پر مستولی ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر معرفت انبیاء علیہم السلام ہی کی ہوتی ہے۔ اس لیے ان کی ہر بات اور ہر ادا میں بشریت کا رنگ جدا نظر آتا ہے اور تائیدات الہیہ الگ نظر آتی ہیں ۔ ہمارا ایمان ہے کہ خدا تعالیٰ نشان دکھاتا ہے جب چاہتا ہے، وہ دنیا کو قیامت بنانا نہیں چاہتا اگر وہ ایسا کھلا ہوا ہو کہ جیسے سورج تو پھر ایمان کیا رہا اور اس کا ثواب کیا ؟ ایسی صورت میں کون بد بخت ہا ہوگا جو انکار کرے گا۔ نشان بین ہوتے ہیں مگر ان کو باریک بین دیکھ سکتے ہیں اور کوئی نہیں ۔ اور یہ دقت نظر اور معرفت سعادت کی وجہ سے عطا ہوتی ہے اور تقوی سے ملتی ہے شقی اور فاسق اس کو نہیں دیکھ سکتا۔ ایمان اس وقت تک ایمان ہے جب تک اس میں کوئی پہلو اخفا کا بھی ہو لیکن جب بالکل پردہ برانداز ہو تو وہ ایمان نہیں رہتا۔ اگر مٹھی بند ہو اور کوئی بتادے کہ اس میں یہ ہے تو اس کی فراست قابلِ تعریف ہو سکتی ہے لیکن جب مٹھی کھول کر دکھا دی اور پھر کسی نے کہا کہ میں بتا دیتا ہوں تو کیا ہوا۔ یا پہلی رات کا چاند اگر کوئی دیکھ کر بتائے تو البتہ اسے تیز نظر کہیں گے لیکن جب چودہویں کا چاند ہو گیا اس وقت کوئی کہے کہ میں نے چاند دیکھ لیا وہ چڑھا ہوا ہے تو لوگ اس کو پاگل کہیں گے ۔ غرض معجزات وہی ہوتے ہیں جس کی نظیر لانے پر دوسرے عاجز ہوں۔ انسان کا یہ کام نہیں کہ وہ ان کی حد بند کرے کہ ایسا ہونا چاہیے یا ویسا ہونا چاہیے۔ اس میں ضرور ہے کہ بعض پہلو اخفا کے ہوں کیونکہ نشانات کے ظاہر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ایمان بڑھے اور اس میں ایک عرفانی رنگ پیدا ہو جس سے یہ میں ذوق ملا ہوا ہو۔ لیکن جب ایسی کھلی باتیں ہوں گی تو اس میں ایمانی رنگ ہی نہیں آ سکتا چہ جائیکہ عرفانی اور ذوقی رنگ ہو۔ پس اقتراحی نشانات سے اس لیے منع کیا جاتا ہے اور روکا جاتا ہے کہ اس میں پہلی رگ سوء ادبی کی پیدا ہو جاتی ہے جو ایمان کی جڑ کاٹ ڈالتی ہے۔