ملفوظات (جلد 3) — Page 10
ملفوظات حضرت مسیح موعود مولوی رومی نے کیا اچھا کہا ہے۔ ه ۱۰ عشق اول سرکش و خونی بود تا گریزد هر که بیرونی بود جلد سوم سید عبد القادر جیلانی بھی ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ جب مومن، مومن بننا چاہتا ہے تو ضرور ہے کہ اس پر دکھ اور ابتلا آویں اور وہ یہاں تک آتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو قریب موت سمجھتا ہے اور پھر جب اس حالت تک پہنچ جاتا ہے تو رحمت الہیہ کا جوش ہوتا ہے تو قُلْنَا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وسلما (الانبیآء : ۷۰) کا حکم ہوتا ہے۔ اصل اور آخری بات یہی ہے۔ مگر نہ شنیدہ کہ خدا داری چه آیات مبین ع غم داری 1 میرے نزدیک آیات مبین وہ ہوتی ہیں مخالف جس کے مقابلہ سے عاجز ہو جاوے خواہ وہ کچھ ہی ہو۔ جس کا مخالف مقابلہ نہ کر سکے وہ اعجاز ٹھہر جائے گا جبکہ اس کی تحدی کی گئی ہو ۔ یا د رکھنا چاہیے کہ اقتراح کے نشانوں کو اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔ نبی کبھی جرات کر کے یہ نہیں کہے گا کہ تم جو نشان مجھ سے مانگو میں وہی دکھانے کو تیار ہوں ۔ اس کے منہ سے جب نکلے گا یہی نکلے گا انما الایت عند الله (العنکبوت : ۵۱) اور یہی اس کی صداقت کا نشان ہوتا ہے۔ کم نصیب مخالف اس قسم کی آیتوں سے یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ معجزات سے انکار کیا گیا ہے مگر وہ آنکھوں کے اندھے ہیں ان کو معجزات کی حقیقت ہی معلوم نہیں ہوتی اس لیے وہ ایسے اعتراض کرتے ہیں اور نہ ذاتِ باری کی عزت اور جبروت کا ادب ان کے دل پر ہوتا ہے۔ ہمارا خدا تعالیٰ پر کیا حق ہے کہ ہم جو کہیں وہ وہی کر دے یہ سوء ادب ہے اور ایسا خدا خدا ہی نہیں ہو سکتا۔ ہاں یہ اس کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو امید اور حوصلہ دلایا کہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ (المؤمن : ٦١ ) الحکم جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخه ۱۲۴ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲،۱